گدھے کو گلے لگاﺅ اور کورونا سے نجات پاﺅ

کورونا وائرس سے نجات پانے کا انوکھا ’’ڈنکی ڈاکٹر‘‘طریقہ

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار اکتوبر 06:16

گدھے کو گلے لگاﺅ اور کورونا سے نجات پاﺅ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2020ء) کورونا کو دنیا میں آئے ایک سال ہونے کو ہے مگر ابھی تک اس کی ویکسین ایجاد نہیں ہو سکی اور اس کا خوف دنیا پر بدستور سوار ہے۔تاہم اب اس وائرس سے نجات کا ایک ذریعہ اسپین میں کچھ اس طرح ڈھونڈھا گیاہے کہ اس کے چرچے ہر طرف ہونے لگے ہیں۔ یورپی ملک سپین میں کورونا وائرس کے باعث ذہنی تناو، ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار ہونے والے طبی عملے کے لیے گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے کے عمل سے تھراپی کا کام لیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک غیر سرکاری تنظیم ال بریتو فلیز نے تھراپی کا آغاز کیا ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ گدھوں کے ذریعے تھراپی کی مدد سے متعدد جسمانی اور ذہنی امراض میں مدد ملتی ہے۔واضح رہے کہ اس تنظیم کے نام کا مطلب خوش رہنے والا چھوٹا گدھا ہے۔

(جاری ہے)

عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی تھراپی میں گھوڑوں کے ساتھ وقت گزارنا زیادہ مددگار ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گدھے زیادہ نرم خو ہوتے ہیں جن کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی اور جذباتی انتشار کی صورت میں زیادہ معاون ثابت ہوتا ہے۔کورونا وائرس کا علاج کرنے والے طبی عملے میں شامل افراد کی گدھوں کی مدد سے تھراپی کے منصوبے کو ”ڈونکی ڈاکٹر“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ جون کے آخر میں شروع ہوا تھا۔سپین کے جنوب میں واقع اندلوسیا دونانا نیشنل پارک کے قریب ”ال بریتو فلیز “کے 23 گدھے موجود ہیں جو کہ الزائمر کے مریضوں اور بچوں کے حوالے سے کام کر رہے ہیں لیکن اب گدھوں سے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملی کو ذہنی سکون کے لیے تھراپی کی جا رہی ہے۔

ال بریتو فلیز کے نگراں 57 سالہ لوئس بیجارانو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف طبی عملے کی روزانہ کی جدوجہد بہت زیادہ ذہنی دبائو کا باعث بنتی ہے جس سے ان کی توانائی ختم ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈونکی تھراپی کا بنیادی خیال جاپان کی کتاب سے لیا گیا ہے جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ درختوں کے درمیان وقت گزارنے سے ذہنی دبائو میں کمی لائی جا سکتی ہے۔سپین میں بڑی تعداد میں مریضوں کی ہسپتالوں میں آمد اور ہلاکتوں سے طبی عملہ شدید ذہنی دبائو اور پریشانی کا شکار ہے۔یاد رہے کہ سپین میں عالمی وبا سے 33 ہزار 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 90 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔