مشرف دور میں منافع دینے والی اسٹیل مل پیپلز پارٹی اور ن لیگ دور میں دیوالیہ ہو گئی

کھربوں روپے منافع کمانے والی اسٹیل مل اربوں کے خسارے میں کیسے چلی گئی؟

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ دسمبر 06:04

مشرف دور میں منافع دینے والی اسٹیل مل پیپلز پارٹی اور ن لیگ دور میں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 دسمبر2020ء) گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے راہنماﺅں نے اسٹیل مل کے فارغ کیے جانے والے ملازمین کے ساتھ مل کر اظہار یکجہتی کے طور پر پریس کانفرنس کی۔جس میں کہا کہ اسٹیل مل کے ملازمین کے مستقبل کو داﺅ پر لگا دیا گیا ہے اور انہیں فارغ کر کے ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔اس پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے اسٹیل مل سے متعلق بات کرتے ہوئے رضا ربّانی صاحب سے سوال پوچھا کہ آخر اسٹیل ملز کو پیپلز پارٹی اپنے دور میں ٹھیک کیوں نہ کر سکی؟یہ وہی اسٹیل مل ہے جو کہ مشرف کے دور میںمنافع بخش تھی اور پیپلز پارٹی کا دور آتے ہیں گھاٹے میں جانا شروع ہو گئی اور جب نواز شریف کا دور آیا تو اس کا بیڑہ ہی غرق ہو گیا تب یہ نہ صرف نقصان میں جانے لگی بلکہ یہ ملک کو قوم کے لیے سفید ہاتھی بن گئی جس کو بند کرنا ہی موجودہ حکومت کے پاس آخری آپشن رہ گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس سوال پر فوراً کہرام مچ گیا اور مزدور یونین کے نمائندوں نے فوراً اپنی مفت کی روزی کو بچانے کے لیے مخل ہوئے، بات کو دوسری جانب موڑا اور پھر دوبارہ اس صحافی کو یہ سوال کرنے کی نہ اجازت ملی اور نہ ہی کسی نے اس سوال کا جواب دینے کی جسارت کی۔پی پی پی کی حکومت اگر اس سوال کا کوئی تسلیّ بخش جواب دے سکیں تو اسٹیل ملز لے لیں۔ نہیں تو دوبارہ عوام کو اسی پرانے چکّر میں نہ الجھائیں، جہاں ایک اسٹیل ملز کے چند ہزار ورکروں کی مفت کی نوکری کے لیے ملک بھر کے لاکھوں لوگوں کے حق کا پیسہ جھونکا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اربوں کے خسارے کے بعد ہی موجودہ حکومت نے اسٹیل مل کے ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دے کر فارغ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس پر اسٹیل مل کے ملازمین سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں کہ انہیں فارغ کر کے ان کے چولہے ٹھنڈے کیے جا رہے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اسٹیل مل کی آمدن تو ہے نہیں اور جیب سے تنخواہیں دینے کے لیے حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔لہٰذا حکومت کے پاس واحد اور آخری حل ملازمین کو فارغ کر کے اسٹیل مل کی نجکاری کرنا ہے۔