میانمار: مظاہرین پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ،13 ہلاک، متعدد زخمی

جمعرات اپریل 00:46

ینگون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اپریل2021ء) فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پرسکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دارالحکومت ینگون میں کئی چھوٹے چھوٹے دھماکے بھی سنے گئے ہیں جب کہ ایک فیکٹری کو بھی آگ لگادی گئی ہے۔

فیکٹری کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ چین کی ملکیت ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوجی حکمرانوں کا کہنا ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک میانمار کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی نے ایک گروپ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یکم فروری سے اب تک فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں 580 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی بغاوت کے خلاف بڑے پیمانے پر سیاسی جماعتوں کے کارکنان احجاج کرر ہے ہیں اور ان کے خلاف سیکورٹی فورسز طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شمال مغربی شہر کال میں مظاہرین پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ آنگ سان سوچی کی سول حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میانمار میں ہونے والی فوجی بغاوت کے خلاف امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جب کہ امریکہ نے فوجی بغاوت میں ملوث فوجی افسران پر پابندیاں عائد کی ہیں۔