نیٹو رکن ممالک کے سربراہان نے چین کو گلوبل سیکیورٹی کے لیے چیلنج قراردیدیا

چینی کی جانب سے اپنی مسلح افواج کو جدید کرنے اور ڈس انفارمیشن کے پھیلائو کے استعمال پر بھی خدشات کا اظہار نیٹو، چین کی ترقی کو عقلی تقاضوں پر جائزہ لے ،خطرہ گرادنے کیلئے مختلف چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے باز رہے، چین کا انتباہ

منگل جون 15:19

نیٹو رکن ممالک کے سربراہان نے چین کو گلوبل سیکیورٹی کے لیے چیلنج قراردیدیا
بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جون2021ء) دی نارتھ ٹریٹی آرگنائیزیشن (نیٹو) کے رکن ممالک کے سربراہان نے چین کو گلوبل سیکیورٹی کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے اس کی جانب سے تیزی سے میزائلوں کی تیاری پر خدشات کا اظہار کردیا۔عالمی میڈیا کے مطابق برسلز میں ہونے والے اجلاس میں نیٹو رکن کے ممالک نے مشترکہ بیان میں چین کو عالمی سیکیورٹی رسک قرار دیا۔

عہدیداروں نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ چین تیزی سے ایٹمی میزائل بنا رہا ہے۔بیان میں چین کی جانب سے تیزی سے میزائلوں کی تیاری کو انٹرنیشنل قوانین اور سیکیورٹی الائنس کے لیے منظم چیلنج بھی قرار دیا گیا۔اگرچہ بیان میں نیٹو کے رکن ممالک کے 30 سربراہان نے چین کو حریف کہنے سے گریز کیا تاہم چین کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی جانب سے اپنی مسلح افواج کو جدید کرنے اور اسے ڈس انفارمیشن کے پھیلائو کے استعمال پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا۔

(جاری ہے)

بیان میں چین سے عالمی وعدوں اور معاہدوں پر عمل کرنے اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔چین نے نیٹو ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ بیجنگ کو خطے میں خطرہ قرار دے کر محاذ آرائی کی صورتحال پیدا کررہے ہیں۔ یورپی یونین کے چینی مشن کی جانب سے بیان جاری ہوا کہ نیٹو، چین کی ترقی کو عقلی تقاضوں پر جائزہ لے اور اسے خطرہ گرادنے کے لیے مختلف چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے باز رہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک ہیرا پھیری کے بہانے چین کے جائز مفادات اور قانونی حقوق کو استعمال نہ کریں۔چینی مشن کی جانب سے کہا گیا کہ یہ چین کی پرامن ترقی سے متعلق نیٹو کے الزامات ہیں، بین الاقوامی صورتحال اور ان کے اپنے کردار کی غلط فہمی ہے اور یہ سرد جنگ کی ذہنیت اور نیٹو گروپ کی سیاسی نفسیات کا سلسلہ ہے۔دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو ممالک موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل پر چین کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کریں گے لیکن انہوں نے بیجنگ کے دیگر امور پر تیزی سے بڑھتے ہوئے مؤقف پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔