میٹھے اور لیمن کی افزائش بذریعہ قلم ہوتی ہے مگراسے بذریعہ چشمہ پیدا کرنا بہتر ہے،عدیل احمد

جمعہ 29 اگست 2025 14:30

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) میٹھے اور لیمن کی افزائش بذریعہ قلم ہوتی ہے مگراسے بذریعہ چشمہ پیدا کرنا بہتر ہے تاہم کاغذی لیموں سمیت بہت سے روٹ سٹاک بذریعہ بیج ہی پیدا کئے جاتے ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع عدیل احمدنے بتایا کہ ترشاوہ پھلوں کے پودوں کی افزائش نسل بیج، قلم، داب اور چشمہ کے ذریعے ہوتی ہے کیونکہ بیج سے پودا تیار کرنا آسان ہے مگر اس طریقے سے تیار کئے گئے پودے صحیح النسل نہیں ہوتے۔

انہوں نے بتایاکہ جن پھلوں میں خاصیت کو زیادہ فوقیت حاصل نہیں انہیں عام طور پر بیج ہی کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے۔انہوں نے ترشاوہ پھلوں کے باغبانوں کوموجودہ موسم کے دوران باغات کی آبپاشی کاوقفہ 10سے12 دن رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ باغبان آبپاشی کے ضمن میں کسی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں تاہم موسم میں نمی کے دوران یہ وقفہ3 سے4 ہفتوں تک بڑھایابھی جاسکتاہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ثمر دار درخت لمبی عمر ہونے کی وجہ سے زمین سے مسلسل خوراک حاصل کرتے رہتے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ ان کی صحت اورطاقت بحال رکھنے کیلئے ان کو باقاعدہ کھاد ڈالنے کاعمل جاری رکھاجائے۔ انہوں نے کہاکہ تجربات سے ظاہر ہے کہ ہماری زمینوں میں زیادہ تر نائٹروجن کی کمی ہے اسلئے صرف ایسی کھادوں کا استعمال کیا جائے جن میں نائٹروجن موجود ہو۔ انہوں نے بتایاکہ گوبر کی کھاد سب سے بہتر تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس میں نائٹروجن کے علاوہ دوسرے اجزا بھی پائے جاتے ہیں اور اس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ سبز کھاد کا اثر تمام زمینوں پر بہت اچھا ہوتا ہے تاہم اگر گوبر کی کھاد پوری مقدار میں نہ مل سکے تو کیمیائی کھادوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :