کراچی : 2 کمسن بیٹیوں کے گلے کاٹنے والے سفاک باپ کے خلاف مقدمہ درج

بدھ 22 اکتوبر 2025 17:06

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2025ء) کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کوثر نیازی کالونی میں باپ کے ہاتھوں دو کمسن بچیوں کے لرزہ خیز قتل کے واقعے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ بڑی بیٹی کو موبائل فون پر کسی سے بات کرنے پر قتل کیا، بڑی بیٹی کو قتل کرتے وقت چھوٹی بیٹی نے دیکھ لیا تھا جس پر اسے بھی مار دیاجبکہ بیٹیوں کے گلے کاٹنے والے سفاک باپ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ مقدمہ بیٹے ارسلان نے درج کرایاہے۔

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کی کوثر نیازی کالونی میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک باپ نے اپنی ہی دو کمسن بیٹیوں کو قتل کردیا۔پولیس کے مطابق ملزم اکبر نے 10 سالہ زینب اور 11 سالہ عالیہ کو گلے پر چھری پھیر کر بے دردی سے قتل کیا۔

(جاری ہے)

پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ بڑی بیٹی موبائل فون پر کسی سے بات کرتی تھی ، منع کرنے کے باوجود وہ بات کرنے سے نہیں رکی، قتل کے وقت چھوٹی بیٹی جاگ گئی تھی، اس نے بڑی بیٹی کو قتل کرتے دیکھ لیا جس پر اسے بھی ماردیا۔

قتل کی جانے والی دونوں کمسن بہنوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد بھائی کے سپرد کردگئیں ۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم میں وجہ موت تیز دھار آلہ سے گلا کٹنے سے ہوئی ۔ پوسٹ مارٹم کے دوران نمونے کیمیکل ایگزامنیشن کے لیے محفوظ کر لیے گئے۔ ممکنہ خدشات کے پیش نظر دونوں بچیوں کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے۔ کیمیکل ایگزامن رپورٹ میں حقائق واضح ہوجائیں گے۔

۔دوسری جانب بچیوں کے قتل کا مقدمہ ملزم باپ کیخلاف حیدری تھانے میں درج کرلیا گیا، مقتول بچیوں کے بھائی ارسلان کی مدعیت میں حیدری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ، جس میں باپ اکبر کو نامزد کیا گیا ہے۔اہلخانہ نے بتایا کہ زینب اور عالیہ کی والدہ کا انتقال چار سال قبل ہوچکا تھا اور دونوں بچیاں اپنے والد کے ساتھ اکیلی رہتی تھیں۔ملزم اکبر بے روزگار اور بھاری قرضے کے باعث ذہنی دبائو و مالی مشکلات کے باعث شدید پریشانی میں مبتلا تھا۔

مقتولین بچیوں کے بہن بھائیوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کا والد کئی لوگوں سے قرضے لیکر فضول خرچیوں میں اڑا چکا تھا اور ان حالات میں ذہنی الجھنوں کا شکار ہو گیا تھا، مرنے والی دونوں بچیاں اپنے 6 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مقتول بچیوں کے دیگر بہن بھائیوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جارہے ہیں۔