عرب ریاستوں میں موسمیاتی تبدیلی سے روزگار کے مواقع بھی تبدیل، آئی ایل او
یو این
اتوار 26 اکتوبر 2025
23:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 26 اکتوبر 2025ء) عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق موسمیاتی تبدیلی عرب ریاستوں میں روایتی ملازمتوں کو بدلتے ہوئے ماحول دوست اور پائیدار روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
موسمیاتی اقدام کے عالمی دن کے موقع پر آئی ایل او کے علاقائی دفتر برائے عرب ریاستوں نے روزگار، ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی تعلق پر مبنی معلوماتی دستاویزات کا اجراء کیا جو خطے کے 12 ممالک کا احاطہ کرتی ہیں۔
نئی ملکی معلوماتی دستاویزات شواہد کی بنیاد پر عرب ریاستوں میں ماحولیاتی مشکلات، موسمیاتی خطرات اور ابھرتے ہوئے ماحول دوست روزگار کے مواقع کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتی ہیں۔
بدلتا موسم بدلتا روزگار
تمام عرب ریاستوں میں درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی، آلودگی اور شدید موسمی حالات کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
(جاری ہے)
یہ مشکلات زراعت، تعمیرات اور توانائی جیسے شعبوں کو سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں جس سے روزگار، پیداوار اور روزگار کی منڈی کے استحکام کو خطرات ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف یہی دباؤ قابلِ تجدید توانائی، پائیدار انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ صنعتوں میں ماحول دوست اور باعزت روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔
یہ وہ شعبے ہیں جو جامع ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ انسانوں اور دنیا دونوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شواہد واضح ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف قدرتی ماحول کے لیے خطرہ نہیں بلکہ روزگار کے مواقع کے لیے ایک بڑا مسئلہ بھی ہے جس سے نمٹنے کے لیے مربوط اور دور اندیش اقدامات کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق موسمیاتی اقدامات کو باعزت روزگار اور سماجی انصاف کے اصولوں کے ساتھ جوڑنا ناگزیر ہے۔
یہ معلوماتی دستاویزات خطے کے ممالک کو شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور منصفانہ تبدیلی کی ایسی حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیں گی جو کسی کو پیچھے نہ چھوڑے۔مشترکہ مواقع
معلوماتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں نمایاں خلا موجود ہے۔ بعض ممالک خصوصاً وہ جو تنازعات سے متاثر ہیں موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
تاہم خلیجی ممالک ادارہ جاتی سطح پر زیادہ تیاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور قابلِ تجدید توانائی میں بھرپور سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ مگر یہ ممالک بڑھتے اخراجات اور بڑھتے ہوئے گرمی کے دباؤ جیسے خطرات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
پورے خطے میں ہر ملک آلودگی کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقرر کردہ محفوظ حدوں سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ کئی عرب ریاستیں زمین کے سب سے زیادہ گرم آباد علاقوں میں شامل ہیں۔
اگر موسمیاتی موافقت اور ماحول دوست پالیسیوں کو مؤثر طور پر مضبوط نہ کیا گیا تو خطہ بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث روزگار اور کام کے اوقات سے محروم ہو سکتا ہے۔
ماحول دوست سرمایہ کاری
ان خطرات کے باوجود عرب ریاستوں میں بڑھتی ہوئی ماحول دوست معیشت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ اردن اور لبنان میں ہزاروں افراد شمسی توانائی کے شعبے میں کام کر رہے ہیں، جبکہ عمان اور سعودی عرب اپنی قومی 2030 حکمتِ عملی کے تحت بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کا ہدف ہے کہ وہ 2050 تک اپنی بجلی کا 30 سے 50 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کریں۔آئی ایل او کا کہنا ہے کہ ماحول دوست شعبوں میں سرمایہ کاری باعزت روزگار کے مواقعوں، لچکدار نظام کی تشکیل اور منصفانہ منتقلی کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ موسمیاتی اقدام ماحولیاتی تحفظ اور سماجی انصاف دونوں میں مؤثر کردار ادا کرے۔
تبدیلی کے شواہد
یہ معلوماتی دستاویزات آئی ایل او کے "جسٹ ٹرانزیشن پریارٹی ایکشن پروگرام" کے تحت خطے میں کی گئی شراکتی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ان میں قومی سطح کے اعدادوشمار کے ساتھ بین الاقوامی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات شامل ہیں جن میں آئی ایل او کے عالمی لیبر شماریاتی اعداد و شمار (آئی ایل او ایس ٹی اے ٹی)، ورلڈ بینک، آئی آر ای این اے، ماحولیاتی کارکردگی اشاریہ اور نوٹر ڈیم گلوبل ایڈاپٹیشن انڈیکس شامل ہیں۔
روزگار، ماحولیاتی اور موسمیاتی اعداد و شمار کو یکجا کر کے آئی ایل او پالیسی سازوں، آجروں اور مزدور تنظیموں کو ایسے حل تیار کرنے میں معاونت فراہم کرنا چاہتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور سب کے لیے باعزت روزگار کو یقینی بنائیں۔
مزید اہم خبریں
-
امن کاروں پر حملہ کرنے والوں کی نشاندہی اور محاسبہ ضروری، سلامتی کونسل
-
بچوں میں پیدائشی جسمانی نقائص کی بروقت تشخیص معذوری سے بچاؤ کی تدبیر
-
اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے: تحقیقاتی کمیشن
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
ٹوکن ٹیکس کی عدم ادائیگی، پنجاب میں ساڑھے 8 لاکھ گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل
-
تنخواہ دار طبقے سے 700ارب جبکہ وڈیروں، جاگیرداروں سے صرف 12ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا
-
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط پاکستان پراعتماد کی بدولت ممکن ہوئے
-
افغانستان: تارکین وطن کی واپسی اور خشک سالی انسانی بحران کا سبب
-
میانمار خانہ جنگی: عالمی بے حسی سے عوام بے یارومددگار، رپورٹ
-
فلسطینی علاقوں میں بچوں کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں رہا، یو این کمیٹی
-
صنفی طور پر متعصب مصنوعی ذہانت کی خواتین سے بدسلوکی
-
جنگیں شہ سرخیوں میں لیکن امن کاری نہیں: جانیے یو این فنڈ برائے امن بارے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.