صوبہ پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف کامیابی سے مکمل ، کاشتکاروں کی خوشحالی حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے، سید عاشق حسین کرمانی

منگل 16 دسمبر 2025 20:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 دسمبر2025ء) وزیرزراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں زرعی شعبے کی بہتری اور کاشتکاروں کی خوشحالی حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو صوبائی وزیر اطلاعات عظمٰی بخاری کے ہمراہ ڈی جی پی آر لاہور میں وزیر اعلی پنجاب کے زرعی اقدامات بارے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کی موثر پالیسی، اقدامات اور مربوط حکمتِ عملی کے نتیجے میں رواں برس گندم کی کاشت کے مقررہ اہداف سے بڑھ کر نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ رواں سال پنجاب میں گندم کی کاشت کا ہدف ایک کروڑ 65 لاکھ ایکڑ مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم خوش آئند طور پر صوبے میں 1کروڑ 67لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کی کاشت مکمل کر لی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اس اہم کامیابی کے بنیادی عوامل میں گندم پالیسی کا بروقت اعلان، قبل از وقت بوائی مہم، باقاعدہ ڈویژنل جائزہ اجلاس اور فیلڈ وزٹس، سرکاری اراضی پر گندم کی لازمی کاشت شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں گندم کے تصدیق شدہ بیج کی قیمت میں نمایاں کمی کی گئی جس کے باعث اس کی فروخت میں 27فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے دور میں صوبہ پنجاب میں تمام کھادیں اپنی مقرر کردہ قیمتوں سے بھی کم ریٹس پر کاشتکاروں کو دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امسال گندم کی کاشت کے دوران یوریا کھاد کی فروخت میں 26 فیصد اضافہ شامل ہیں۔

عاشق حسین کرمانی نے وزیر ِ اعلی پنجاب کسان کارڈ کے فلیگ شپ پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک 10لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 13 ماہ کے دوران کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو 250ارب روپے کے بلاسود پیداواری قرضے فراہم کیے گئے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس پروگرام کے تحت قرض واپسی کی شرح 98 فیصد ہے۔

وزیر ِ زراعت نے مزید بتایا کہ 10لاکھ مستفید ہونے والے کاشتکاروں میں سے 4.5لاکھ کاشتکار پہلی بار بینکنگ سسٹم کا حصہ بنے ہیں۔ وزیرِ زراعت نے وزیر ِ اعلی پنجاب ہائی پاور ٹریکٹر پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں زرعی مشینری پر محض 3ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ موجودہ حکومت پنجاب نے صرف دو برس میں اس مد میں 66ارب روپے مختص کیے ہیں۔

کاشتکاروں کو عالمی معیار کے مطابق فی ایکڑ 1.4 ہارس پاور تک رسائی دینے کے لیے یہ پروگرام شروع کیا گیا۔ ٹریکٹروں کی تقسیم شفاف قرعہ اندازی اور سبسڈی نظام کے تحت کی جا رہی ہے۔ گرین ٹریکٹر پروگرام کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت 30 ہزار ٹریکٹرز10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی کے ساتھ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 14 ہزار ٹریکٹرز کاشتکاروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی کی ترسیل جاری ہے۔

انہوں نے وزیرِ اعلی پنجاب ہائی ٹیک میکانائزیشن فنانسنگ پروگرام کے حوالے سے بتایا کہ جدید زرعی مشینری کی فراہمی کے لیے رواں مالی سال میں 30 ارب روپے کی بلاسود فنانسنگ دی جا رہی ہے۔ اس پروگرام میں 1500 سے زائد ہائی ٹیک مشینیں شامل ہیں جن میں رائس کمبائن ہارویسٹرز، گندم کمبائن ہارویسٹرز اور ہائی پاور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ اب تک کاشتکاروں، سروس پرووائیڈرز اور کمپنیوں کی جانب سے 3600 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

وزیرِ زراعت نے سموگ کے تدارک کے لیے وزیرِ اعلی پنجاب سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت سپر سیڈرز کی فراہمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دھان کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والی سموگ میں کمی کے لیے مرحلہ وار 10 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک 5 ہزار سپر سیڈرز تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 5 ہزار سپر سیڈرز کے لیے درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

قرعہ اندازی مکمل کر لی گئی ہے اور رواں سال کے دوران ان کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی۔زرعی آلات کی تقسیم کے بارے میں وزیرِ زراعت نے بتایا کہ آئندہ تین برس میں 20 ہزار زرعی آلات فراہم کیے جائیں گے۔ 38 اقسام کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے آلات پر 60 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے 2 ہزار 500 زرعی آلات کی فراہمی کے لیے 12 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

وزیرِ اعلی پنجاب زرعی انٹرن شپ پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زرعی گریجویٹس کو عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے یہ پروگرام گزشتہ سال شروع کیا گیا۔ اب تک 2700 انٹرنز ایک سالہ مدت کے لیے شامل کیے جا چکے ہیں جن میں سال 2024-25 کے دوران 1000 انٹرنز نے تربیت مکمل کی جبکہ 1700 انٹرنز نے اکتوبر 2025 میں شمولیت اختیار کی۔ انٹرنز کو کاشتکاری، تربیتی پروگرامز، گندم و کپاس مہم، کسان کارڈ ریکوری اور فصلوں کے انتظام سمیت مختلف عملی امور کا تجربہ حاصل ہو رہا ہے۔

آخر میں وزیرِ زراعت نے ماڈل ایگریکلچر مالز کے قیام پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کاشتکاروں کو تمام زرعی خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرنے کے لیے ملتان، ساہیوال، سرگودھا اور بہاولپور میں چار ماڈل ایگریکلچر مالز قائم کیے جا چکے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران پنجاب کے مزید 10 مقامات پر 10 نئے ماڈل ایگریکلچر مالز قائم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ پوٹھو ہار زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 7 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اسی طرح لائیو سٹاک سیکٹر میں لائیو سٹاک کارڈز10 لاکھ کسانوں کو مہیا کئے گئے ہیں۔ سپیڈ بریڈ اورجنیوم لیب کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔میٹ بریڈز کے اعتبار سے پیداوار بہتر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔