کپاس کی تحقیق میں انقلابی پیش رفت ناگزیر، اعلیٰ پیداواری اور معیاری اقسام دریافت کی جائیں، سیکرٹری زراعت

جمعرات 25 دسمبر 2025 22:43

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 دسمبر2025ء) سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے کپاس کی پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے اعلیٰ پیداواری صلاحیت اور معیاری خصوصیات کی حامل نئی اقسام کی دریافت ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان کے دورے کے دوران کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جہاں انہوں نے ادارے کی سالانہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس میں وائس چانسلر محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، ڈائریکٹر جنرلز محکمہ زراعت پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمن اور نوید عصمت کاہلوں، کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زرعی سائنسدانوں اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کپاس کی تحقیق، پیداوار میں اضافے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تحقیقی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب صوبے میں زراعت کے فروغ، جدت اور پائیدار ترقی کے لیے بھرپور وسائل فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس شعبے میں تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے زرعی سائنسدانوں کو ہدایت کی کہ وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق واضح تحقیقی اہداف مقرر کریں اور کلائمیٹ اسمارٹ کپاس کی اقسام کی دریافت پر خصوصی توجہ دیں۔

افتخار علی سہو نے بتایا کہ ان اہداف کے حصول کے لیے باقاعدہ ٹائم لائنز مقرر کر دی گئی ہیں تاکہ تحقیق کے نتائج بروقت سامنے آ سکیں۔ انہوں نے اس امر کی بھی یقین دہانی کرائی کہ کپاس پر تحقیق کے لیے ادارے کو تمام ممکنہ وسائل فراہم کیے جائیں گے اور تحقیقی سرگرمیوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔تاہم انہوں نے ادارے کی موجودہ تحقیقی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نتائج ابھی تک حوصلہ افزا نہیں، جس میں فوری اور نمایاں بہتری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے وائس چانسلر محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر آصف علی پر زور دیا کہ وہ کپاس کی تحقیق میں بہتری لانے کے لیے اپنا مؤثر اور کلیدی کردار ادا کریں اور تحقیقی کاوشوں کو عملی نتائج سے ہم آہنگ بنائیں تاکہ کسانوں کو جدید، معیاری اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام میسر آ سکیں۔