كاشتكار چنے کی فصل کی زیادہ پیدوار حاصل كرنے کیلئے جڑی بوٹیوں كی تلفی كو یقینی بنائیں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال

پیر 5 جنوری 2026 15:48

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 جنوری2026ء) كاشتكار چنے کی فصل کی زیادہ پیدوار حاصل كرنے كی لیے جڑی بوٹیوں كی تلفی كو یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے چنے کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ کاشتکار چنے کی جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ گوڈی کریں یا محکمہ زراعت کے مشورہ سے جڑی بوٹی کش زہر کا استعمال کریں،چنے کی فصل کو پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے،آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں خصوصاً پھول آنے پر اگر فصل میں سوکھا محسوس ہو تو ہلکاپانی لگا دیں۔

انہوں نے کہا کہ کابلی چنے کے لئے پہلا پانی بوائی کے 60 تا70 دن بعد اور دوسرا پھول آنے پر دیں۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی برداشت کے بعد کاشتہ فصل کو آبپاشی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، ستمبر کاشتہ کماد میں مخلوط کاشتہ چنے کی فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق آبپاشی دیں۔

(جاری ہے)

اگیتی کاشتہ،کثرت کھاد یا بارش وغیرہ کی وجہ سے اگر فصل کا قد بڑھنے لگے تو مناسب حد تک پانی کا سوکا لگائیں یا کاشت کے بعد دو ماہ بعد شاخ تراشی کریں۔

انہوں نے کہا کہ فصل کا معائنہ کرتے رہیں اور اگر فصل پر دیمک، ٹوکے یا چور کیڑے کا حملہ نظر آئے تو محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورہ سے مناسب زہروں کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ فصل پر امریکن سنڈی حملہ آور نظر آئے تو کاشتکار اس کے محکمہ زراعت کے مشورہ سے تدارک کا فوری انتظام کریں، چنے کی فصل میں اگر جڑی بوٹیاں کم ہوں تو جڑی بوٹی مار زہروں کی بجائے گوڈی کو ترجیح دیں۔

پہلی گوڈی فصل اگنے کے30 تا40 دن کے بعد اور دوسری گوڈی پہلی گوڈی کے ایک ماہ بعد کریں، ریتلے علاقوں میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری آسانی سے ہو جاتی ہے اور بارانی علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی کا سپرے کریں،جھلسائو اور مرجھائو کی بیماریوں کا مشاہدہ ہو تو ان بیماریوں کو مزید پھیلا ئوسے روکنے کے لئے متاثرہ پودوں کو تلف کردیں۔