پولیس تھانوں، دفاتر اور ناکوں پر شہریوں کو ’’سر یا میڈم ، صاحب یا صاحبہ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جائےگا

پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کو مرحلہ وار باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے، تھانوں کے باہرپینک بٹن نصب ہوں گے تاکہ شہری بدسلوکی یا شنوائی نہ ہونے کی شکایت درج کراسکیں۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم کی زیرصدارت پولیس اصلاحات کا اجلاس

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 11 فروری 2026 23:30

پولیس تھانوں، دفاتر اور ناکوں پر شہریوں کو ’’سر یا میڈم ، صاحب یا صاحبہ‘‘ ..
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 فروری 2026ء ) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کی زیرِ صدارت پولیس اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس سنٹرل پولیس آفس میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’تیز، بے خوف، شفاف انصاف‘ ویژن کے تحت پنجاب پولیس میں اصلاحاتی اقدامات کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کو مرحلہ وار باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے اور آئندہ دو ماہ کے اندر پوری فورس کو باڈی کیمز سے لیس کر دیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ تھانوں کے باہر پینک بٹن نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی بدسلوکی یا شنوائی نہ ہونے کی صورت میں شہری فوری طور پر شکایت درج کرا سکیں۔

(جاری ہے)

آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ تمام تھانوں، دفاتر، ناکوں اور خدمت مراکز پر شہریوں کو عزت و احترام کے ساتھ ”سر یا میڈم“ اور ”صاحب یا صاحبہ“ کہہ کر مخاطب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے رویوں سے متعلق مجموعی تاثر بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں جس کے تحت افسران اور اہلکاروں کی کونسلنگ اور تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ بدعنوانی، اختیارات سے تجاوز اور بداخلاقی کے مرتکب اہلکاروں کا فوری اور کڑا احتساب کیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب نے تمام تھانوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو مکمل طور پر آپریشنل رکھنے اور بیک اپ سسٹم یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

پولیس اسٹیشنز کی مؤثر نگرانی کے لیے سنٹرل پولیس آفس میں جدید کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ روم فعال کیا جا رہا ہے جبکہ سیف سٹیز میکنزم کے ذریعے تھانوں، ایس ایچ اوز، محررز اور تفتیشی کمروں کی براہ راست مانیٹرنگ کی جائے گی۔ آئی جی پنجاب نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اصلاحاتی ویژن پر عملدرآمد کے لیے جامع میکنزم تشکیل دیں اور پولیس اصلاحات کو ٹریفک پولیس، تھانوں، خدمت مراکز، ناکہ جات اور فیلڈ فارمیشنز سمیت پوری فورس تک فوری طور پر پہنچائیں۔

انہوں نے کرائم کنٹرول کے لیے کور پولیسنگ، سپرویژن اور کمانڈ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خود تمام پولیس اصلاحاتی اقدامات کی نگرانی کر رہی ہیں۔ اجلاس میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد، ہیلمٹ، لین لائن ڈسپلن اور ون وے کی خلاف ورزی کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔

ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 اور سیف سٹیز سسٹم کے ذریعے پولیس کارکردگی کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ تفتیش کے عمل اور تھانوں میں آنے والے شہریوں کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر ریکارڈ کیا جائے گا اور کی پرفارمنس انڈیکیٹرز (KPIs) کے اسکور کارڈز کو عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود سنٹرل پولیس آفس سے درخواست گزار شہریوں کو فون کر کے فیڈبیک لے رہے ہیں۔

انہوں نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ شہریوں کی داد رسی کے لیے براہ راست رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کریں جبکہ زیادتی، ہراسگی اور تشدد کے مقدمات میں متاثرہ خواتین اور بچوں سے تفتیش مکمل تہذیب اور احترام کے دائرے میں رہ کر کی جائے۔ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشنز اور سنٹر فار چائلڈ سیفٹی کے ڈیٹا کی مدد سے خواتین اور بچوں کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔آخر میں آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تمام افسران کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے پولیس اصلاحاتی ایجنڈے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔