وزیراعظم نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور بجلی چوری میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی

بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمر پر سمارٹ میٹر نصب کئے جائیں گے، بجلی کے ترسیلی نظام کے نقصانات کم ہو کر15.3 فیصد تک آ چکے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 5 مئی 2026 23:18

وزیراعظم نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور بجلی چوری میں ملوث ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 05 مئی 2026ء ) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے اقدامات میں تیزی لانے اور بجلی چوری کے واقعات میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہ برتنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں توا نائی کی ضروریات  قابل تجدید توانائی سے پورا کرنے کے لئے جامع حکمت عملی بنائی جائے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار توانائی کے شعبے کے حوالے سے اصلاحاتی اقدامات پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں توا نائی کی ضروریات  قابل تجدید توانائی سے پورا کرنے کے لئے جامع حکمت عملی بنائی جائے، پن بجلی ، شمسی توانائی اور بائیو گیس سمیت دیگر قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار سے  پیداواری لاگت میں مزید کمی اور معیشت کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بجلی چوری کے واقعات میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حالیہ دنوں میں بجلی کی جن تقسیم کار کمپنیوں نے "اکنامک میرٹ آرڈر" کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے، بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمر پر سمارٹ میٹر نصب کرنے کے منصوبے کے نفاذ کو فوری ممکن بنایا جائے ، ملک میں بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کو فروغ دینے کے لئے اقدامات تیز کئے جائیں اور نجی شعبے کو ویلنگ کے نظام کے تحت پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی جلد کی جائے۔

وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کی  ترسیلی کمپنیوں میں بجلی چوری، عدم ادائیگی اور دیگر نقصانات کو پچھلے سال کی نسبت موثر اقدامات کے بعد بہت حد تک کم کیا جا چکا ہے، بجلی کے ترسیلی نظام کے نقصانات  جون 2024 میں 18.3 فیصد سے کم ہو کر مارچ  2026 میں 15.3 فیصد تک آ چکے ہیں، بجلی کے بلوں کی وصولی میں بہتری آئی ہے جو کہ جون 2024 میں 90 فیصد سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 96.46 فیصد ہو چکی ہیں ۔ بریفنگ کے مطابق بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے کام جاری ہے اور اس سال نومبر میں بولی کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا، نقصان میں چلنے والے 2500 فیڈرز پر سمارٹ میٹرز لگائے جا چکے ہیں۔