اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 جون 2026ء) زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ سالانہ امتحان کسی چینی یونیورسٹی میں داخلے کا واحد معیار ہے۔ ہاتھوں میں قلم اور شناختی کارڈ تھامے ہزارہا نوجوان چینی طلبہ اتوار سات جون کو امتحانی مراکز میں داخل ہوئے۔ امتحانی مراکز کے باہر والدین کے ہجوم انہیں الوداع کہنے کے لیے موجود تھے۔
اتوار سے شروع ہونے والے اس کئی روزہ امتحان میں چینی زبان، ریاضی، انگریزی اور سائنس جیسے علوم شامل ہوتے ہیں۔
مجموعی نتائج اسی ماہ کے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔ایک امتحانی ہال میں داخل ہونے سے چند لمحے قبل ایک طالب علم ژانگ شِنان نے کہا، ''یہ میرا پہلا موقع ہے، اس لیے تھوڑی سی بے چینی ہے۔‘‘
عینک لگائے بیجنگ کے اس نوجوان نے اعتراف کیا کہ چینی زبان کے امتحان کے مضمون نویسی والے حصے کے بارے میں وہ گھبراہٹ محسوس کر رہے تھے۔
(جاری ہے)
ماحول دوست توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں کام کرنے کے خواہش مند ژانگ نے کہا، ''پراعتماد ہو کر جاؤ تو سب ٹھیک ہونے کی توقع ہوتی ہے۔
‘‘والدین کا انتظار اور نیک شگون کی تمنا
امتحانی مراکز کے باہر کچھ والدین سرخ لباس پہنے کھڑے تھے۔ چینی ثقافت میں سرخ رنگ خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایک استاد نے درجنوں غباروں سے بنا سورج مکھی کا ایک بڑا پھول اٹھا رکھا تھا۔ مینڈرین زبان میں اس پودے کا نام ایک ایسے چینی محاورے کا ہم آواز ہے، جس کے معنی کامیابی کے ہیں۔
بیجنگ کے ایک امتحانی مرکز میں درجنوں پولیس اہلکار اور سکیورٹی گارڈ مستعد کھڑے تھے، جبکہ والدین قطار میں کھڑے اپنے بچوں کو امتحانی ہال میں داخل ہوتے ہوئے فلمانے کی کوشش کر رہے تھے۔
نقل پر سخت پابندی
تعلیمی حکام ہر سال گاؤکاؤ کے دوران ہائی الرٹ پر رہتے ہیں اور نقل کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہیں۔ اس سال طلبہ کو واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اسمارٹ گلاسز یا اسمارٹ گھڑیاں امتحانی مراکز میں نہ لائیں، جہاں ویڈیو نگرانی کا مکمل انتظام موجود ہے۔
وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے رویے
گزشتہ چند دہائیوں میں چین میں اعلیٰ تعلیم کا دائرہ تیزی سے وسیع ہوا ہے۔ معاشی ترقی نے جہاں معیارِ زندگی بلند کیا ہے، وہیں بچوں کے مستقبل کے حوالے سے والدین کی توقعات بھی بڑھی ہیں۔
تاہم نئے فارغ التحصیل طلبہ کو جس ملازمت کی منڈی کا سامنا ہے، وہ پہلے جیسی سازگار نہیں رہی۔ نوجوانوں میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 سے 24 سال کی عمر کے ہر چھ میں سے تقریباً ایک چینی نوجوان (طلبہ کو چھوڑ کر) بے روزگار ہے۔گاؤکاؤ سے متعلق رویوں میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ طلبہ اور والدین اب بڑھ چڑھ کر یہ سوچنے لگے ہیں کہ بہت زیادہ نمبروں کی خاطر جسمانی اور ذہنی صحت کو قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایک امتحانی ہال کے سامنے کھڑی ایک والدہ ڈینگ، جو اپنی بیٹی کے لیے مشق کی کتابوں کا ڈھیر اٹھائے ہوئے تھیں، نے کہا، ''میں کافی آزاد خیال ہوں۔
‘‘53 سالہ ڈینگ نے بتایا، ''میری بیٹی معمول کے مطابق کارکردگی دکھائے، بس یہی کافی ہے۔ مجھے جسمانی صحت کی زیادہ فکر ہے، امتحان تو ایک رسمی کارروائی ہے۔‘‘
تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ ہنراور دیگر مہارتیں بھی ضروری
ڈینگ کی بیٹی کا ہدف بھی دارالحکومت کی مقبول جامعات سنگھوا یا بیجنگ یونیورسٹی جیسا کوئی نامور ادارہ نہیں بلکہ ان کے نزدیک تو گاؤکاؤ کا خاتمہ ہی بہترین حل ہو گا، ''گاؤکاؤ ختم کر دو، اب گاؤکاؤ نہیں ہونا چاہیے۔
‘‘ پھر وہ مسکراتے ہوئے خود ہی بولیں، ''لیکن یہ ناممکن ہے۔‘‘امتحانی سوالات میں عصری موضوعات
گاؤکاؤ کے پرچوں میں اکثر نظریاتی اور سماجی موضوعات شامل کیے جاتے ہیں۔ اس سال بھی تبدیلی اور چیلنجوں سے ہم آہنگی کے موضوعات نمایاں رہے۔ سرکاری اخبار ''پیپلز ڈیلی‘‘ کے مطابق بیجنگ میں ایک سوال میں طلبہ سے کہا گیا کہ وہ بزرگ شہریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منعقد کی جانے والی ایک اے آئی تقریب کے لیے نعرہ تحریر کریں۔
سوال کی عبارت تھی، ''ایک اسکول نرسنگ ہومز میں 'مصنوعی ذہانت اور خوشگوار بڑھاپا‘ کے موضوع پر رضاکارانہ سرگرمی منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بزرگوں کو شرکت کی ترغیب دینے کے لیے اس تقریب کا ایک نعرہ تحریر کیجیے۔‘‘شنگھائی میں طلبہ سے کہا گیا کہ وہ 800 الفاظ میں بیان کریں کہ ٹیکنالوجی نے دنیا اور انسانی تخیل کو کس طرح نئی شکل دی ہے؟
بیجنگ کے کئی طلبہ کے لیے گاؤکاؤ اپنی منزل کی جانب پہلا قدم ہے۔
طالب علم ژانگ نے کہا، ''میری خواہش ہے کہ میں اپنی پسندیدہ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکوں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے دوست بھی امتحان کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا، ''اگر ہم خود کو پرسکون رکھ سکیں تو ذہنی توازن قائم ہو جاتا ہے۔ گاؤکاؤ میں سب سے اہم چیز ذہنی حالت ہے۔‘‘
ادارت: مقبول ملک