انصار اللہ کے زیر حراست امدادی کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

یو این جمعرات 11 جون 2026 01:00

انصار اللہ کے زیر حراست امدادی کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 11 جون 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے یمن میں انصار اللہ (حوثیوں) کی جانب سے ادارے کے امدادی اہلکاروں، غیر سرکاری و سول سوسائٹی کی تنظیموں اور سفارت خانوں کے عملے کے ارکان کو غیرقانونی قید سے رہا کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے جن کی حراست کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔

سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے 73 افراد انصاراللہ کی ناجائز حراست میں ہیں۔

ان میں سے ایک اہلکار دوران قید انتقال کر گیا ہے جبکہ باقی لوگ قید تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

(جاری ہے)

ان سے متاثرہ خاندانوں کے لیے شدید اذیت نے جنم لیا ہے اور یمن میں لاکھوں ضرورت مند افراد تک امداد پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے اہلکار، خواہ وہ یمنی شہری ہی کیوں نہ ہوں، اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران کیے گئے تمام اقدامات پر قانونی کارروائی سے استثنا کے حق دار ہیں۔

منصفانہ اور پائیدار امن کی امنگ

ان کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کی رہائی کو یقینی بنانے اور انسانی و ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے حوثی حکام کے ساتھ مسلسل مکالمہ اور رابطہ نہایت اہم ہے۔ اقوام متحدہ اپنے زیر حراست عملے کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرتی رہے گا۔

سیکریٹری جنرل نے ان لوگوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ انسانی خدمت انجام دینے والے کارکنوں کو ان کے فرائض کی ادائیگی کے باعث کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور نہ ہی انہیں حراست میں لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے کہ اقوام متحدہ یمن کے عوام اور ان کی منصفانہ اور پائیدار امن کی امنگوں سے اپنی وابستگی میں ثابت قدم رہے گا۔