اے کے ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کریں اور حلف نامے سے الحاق پاکستان کا ذکر نکالیں

ہم چاہتے ہیں معاملہ سیٹل ہوجائے اور تشدد نہ ہو، ن کو تجویز دی کہ الیکشن کے ساتھ ریفرنڈم کرالیتے ہیں اورلوگ فیصلہ کرلیں، ایکشن کمیٹی نے حکومت کی ریفرنڈم کی تجویز ماننے سے بھی انکار کیا، رانا ثنا ء اللہ کا اظہارخیال

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 10 جون 2026 21:08

اے کے ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کریں اور حلف ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 10 جون 2026ء ) وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کریں اور حلف نامے سے الحاق پاکستان کا ذکر نکالیں۔سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستا ن میں پرامن انتخابات ہوئے ہیں، جی بی الیکشن میں پیپلزپارٹی نے 23حلقوں میں امیدوار کھڑے کئے، جس جماعت کی بات ہورہی ہے اس نے 14امیدوار کھڑے کئے۔

پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر نے گلگت بلتستان میں کئی جلسے کئے، چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ جی بی میں تشدد کی کوئی شکایت نہیں آئی۔جہاں بھی شکایت موصول ہوئی ان پانچ حلقوں میں دوبارہ الیکشن ہوں گے، جہاں شکایات موصول ہوئیں وہاں 15 جون کو ری پولنگ ہوگی۔

(جاری ہے)

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ بیڑہ غرق ہوگیاہے، اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر کے حوالے سے جو بات کی وہ درست نہیں ہے۔

کالعدم ایکشن کمیٹی کے مظفر آباد احتجاج میں پرتشدد واقعات پیش آئے۔ آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایکشن کمیٹی دو سال پہلے دکانداروں مجموعہ کے طور پر سامنے آئی۔ان شروع میں دو مطالبات تھے اور دھرنا دیا۔پرتشدد واقعات پر حکومت نے حکومت نے مذاکرات کئے اور23ارب کا پیکج دیا۔آزاد کشمیر کو بجلی منصوبوں کیلئے 10ارب روپے دیئے گئے۔

آزاد کشمیر میں بجلی 3 روپے فی یونٹ کردی گئی جبکہ باقی ملک میں 48 روپے ریٹ ہے۔ آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے مطالبات 2023 میں ہی پورے ہوگئے تھے۔بجائے شکریہ ادا کرنے کے ایک سال بعد دوبارہ 38مطالبات سامنے لے آئے، وزیراعظم کی کمیٹی ان کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کئے۔ایکشن کمیٹی کے 38مطالبات میں سے 37پر تحریری معاہدہ کیا گیا۔ آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ مہاجرین کی 12نشستیں ختم کردی جائیں۔

مطالبہ تھا کہ مہاجرین نشستوں کے ممبرز کو وزیر نہ بنایا جائے، اور فنڈز نہ دیئے جائیں۔مہاجرین کو ملازمتوں میں کوٹہ نہ دینے کا مطالبہ بھی تھا۔مہاجرین کی نمائندگہ ختم کرنے سے آزاد جموں کشمیر کی تحریک ہی نہیں رہے گی۔آئینی معاملہ دیکھنے کیلئے 6رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ انہیں جنوری میں معلوم تھا کہ الیکشن 4اگست سے پہلے ہونے ہیں۔انہیں معلوم تھا کہ جون کے پہلے ہفتے میں الیکشن شیڈول دیا جائے گا، انہوں نے جان بوجھ کر جنوری میں ہی جون کے احتجاج کی کال دی۔

عید کے تیسرے روز دوبارہ مذاکرات کئے۔مذاکرات کے ان کے 37مطالبات پر مکمل حساب دیا گیا، کمیٹی کی بات پر کہا گیا کمیٹی کو نہیں مانتے۔ اے آروائی نیوز کے مطابق رانا ثناءاللہ نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اے کے ایکشن کمیٹی مطالبہ کیا گیا کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کریں اور حلف نامے سے الحاق پاکستان کا ذکر نکالیں ۔ ہم چاہتے ہیں معاملہ سیٹل ہوجائے اور تشدد نہ ہو۔

ان کو تجویز دی گئی کہ الیکشن کے ساتھ ریفرنڈم کرالیتے ہیں لوگ فیصلہ کرلیں گے۔ ایکشن کمیٹی نے حکومت کی ریفرنڈم کی تجویز ماننے سے بھی انکار کیا۔ اے پی سی بلانے کی بھی تجویز دی گئی تو اس کا بھء کوئی جواب نہیں ملا۔ایکشن کمیٹی نے کہا ہم ہر قیمت پر 9جو ن کو مظفرآباد آئیں گے، لیڈرشپ نے مل کر فیصلہ کیا کہ معاملہ اگلی اسمبلی کے سامنے رکھا جائے گا، ایسا کسی صورت نہیں ہوسکتا کہ مہاجروں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جائے، تمام مشاورت کے بعد ہی اے کے اسمبلی نے قرارداد کی توثیق کی۔