سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن( تنظیم نو)ترمیمی بل پر غور موخر کر دیا، نجی املاک کے حقوق سے متعلق شقوں پر نظرثانی کا مطالبہ
بدھ 17 جون 2026 23:15
(جاری ہے)
کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم بنیادی طور پر تین شعبوں پر مشتمل ہیں جن میں سرکاری ملکیتی اداروں کے اصولوں کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی توسیع اور سہولت کاری اور ریگولیٹری نظام میں آپریشنل کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
حکام نے آگاہ کیا کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد فائبر نیٹ ورک کی تنصیب کے لیے رائٹ آف وے سے متعلق طریقہ کار کو آسان بنانا، تنازعات کے حل کے نظام کو مضبوط کرنا، قومی ڈیجیٹل رابطہ کاری کے اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرنا اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ یہ ترامیم ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کے پھیلائو اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی توسیع کو تیز کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔کمیٹی کے اراکین نے مناسب حکومت (Appropriate Government) کے اختیارات، عملدرآمد سے متعلق شقوں میں صوابدیدی اختیارات کے استعمال اور نجی املاک کے حقوق پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔سینیٹرز نے زور دیا کہ کسی بھی فرد کو واضح قانونی تحفظات، باہمی رضامندی کے طریقہ کار اور شفاف تنازعاتی حل کے نظام کے بغیر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب کی اجازت دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔اراکین نے بالخصوص زمین تک رسائی، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب اور رائٹ آف وے دینے سے انکار کی صورت میں عائد کی جانے والی سزائوں کی تشریح سے متعلق شقوں پر سوالات اٹھائے۔ان تحفظات کے جواب میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے نمائندگان نے وضاحت کی کہ مجوزہ فریم ورک نجی املاک کے جبری حصول یا قبضے کی اجازت نہیں دیتا اور انفراسٹرکچر کی تنصیب باہمی معاہدوں، قانونی طریقہ کار اور متعین تنازعاتی حل کے نظام کے تحت ہی ممکن ہوگی۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ نجی ملکیت کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے اور ابہام پیدا کرنے والی شقوں اور الفاظ کا ازسرنو جائزہ لے کر انہیں مزید واضح بنایا جائے گا۔وزارت نے مزید بتایا کہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے نوٹسز، سماعتوں اور انتظامی نظرثانی کے طریقہ کار کو بھی مجوزہ قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔کمیٹی نے ادارہ جاتی تنظیم نو اور مجوزہ فریم ورک کے تحت تقرریوں سے متعلق گورننس کی شقوں پر بھی غور کیا۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ عبوری انتظامات اور تفویض کردہ اختیارات شفاف اور وقت کی پابندی کے تابع ہونے چاہئیں۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بل پر مزید غور موخر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں اس کا شق وار جائزہ جاری رکھا جائے گا۔مزید قومی خبریں
-
سوشل میڈیا پروپیگنڈے کیخلاف نوجوانوں کا مثبت کردار ضروری ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
-
جوا سٹہ چلانے میں ملوث 3 ملزمان گرفتار،سٹے کی پرچیاں،ٹوکن اور دائو پر لگی رقم برآمد
-
الیکشن کمیشن کا سیالکوٹ میں سب کی شمولیت پر مبنی ووٹر آگاہی مہم کا انعقاد
-
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تیسرے اجلاس کا انعقاد
-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پمز ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کی المناک اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار
-
پنجاب بھرمیں 1504ٹریفک حادثات، 13افراد جاں بحق ،1780زخمی ہوئے ،ترجمان
-
بنوں آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، شیری رحمان
-
وزیراعلیٰ پنجاب کا راولپنڈی کے تینوں الائیڈ ہسپتالوں فائر سیفٹی سسٹم نہ یا غیر فعال ہونے کا نوٹس
-
پاکستان نیپال کو ہر ممکن تعاون اور امداد فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، طارق فضل چوہدری
-
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا پی کے ایل آئی راولپنڈی کا دورہ
-
لاہورپولیس کی سود خوروں کیخلاف بڑی کارروائی، 49 ملزمان گرفتار
-
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پمز اسلام آباد میں پیش آنے والے المناک سانحے میں معصوم نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.