اسلام آباد میں 4 خواتین کی جانب سے جعلی مجسٹریٹ بن کر جرمانے وصول کرنے کا انکشاف

ملزمان ترنول کے علاقے میں مجسٹریٹ بن کر چھاپے مارتی تھیں، اطلاع ملنے پر ملزمان خواتین کو گرفتار کر لیا گیا، پولیس حکام

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 3 جولائی 2026 20:05

اسلام آباد میں 4 خواتین کی جانب سے جعلی مجسٹریٹ بن کر جرمانے وصول کرنے ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 03 جولائی 2026ء ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چار خواتین جعلی مجسٹریٹ بن کر چھاپے مارتی رہیں اور جرمانے وصول کرنے بھی کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیا کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جعلی مجسٹریٹ بن کر جرمانے وصول کرنے والی چاروں خواتین کو گرفتار کر لیا گیا، ملزمان ترنول کے علاقے میں جعلی مجسٹریٹ بن کر چھاپے مارتی تھیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ چار میں سے ایک خاتون نے خود کو مجسٹریٹ ظاہر کیا، جعلی ٹیم نے 3 ہوٹلوں میں انسپکشن کی اور بھاری جرمانے لیے، اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کی تو خواتین نے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ خواتین کے خلاف مقدمہ درج کر کے تھانہ ویمن منتقل کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

دوسری جانب لاہور کے علاقے ڈیفنس میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے سنگین مقدمے میں گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ پولیس نے مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے عدالت کے روبرو پیش کیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے کیس کی سماعت کی جہاں لاہور ڈیفنس پولیس کی جانب سے گرفتار تمام ملزمان کی حاضری مکمل کروائی گئی۔

سماعت کے دوران فاضل جج نے ملزمان کے چہرے شناخت کے لیے کمرہ عدالت میں ماسک بھی اتروا دیے۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خواتین غیر ملکی ہیں جبکہ مقدمے میں علی ڈار کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ دوران سماعت تفتیشی افسر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد مرکزی ملزم احمد رضا سمیت چاروں ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کو مزید تفتیش جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ کیس کی مزید کارروائی آئندہ سماعت پر آگے بڑھائی جائے گی۔