بحریہ ٹاؤن کیس، غیرقانونی طریقہ سے بیرون ملک پیسہ بھیجنے کے الزام میں 3 ملزمان کو سزا سنا دی گئی

تینوں ملزمان کو جرمانہ اور قید کی سزائیں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی ہیں، مجرمان پر ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک رقم بھجوانے کا الزام تھا

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 9 جولائی 2026 19:40

بحریہ ٹاؤن کیس، غیرقانونی طریقہ سے بیرون ملک پیسہ بھیجنے کے الزام میں ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 09 جولائی 2026ء ) بحریہ ٹاؤن کیس میں غیرقانونی طریقہ سے بیرون ملک پیسہ بھیجنے کے الزام میں 3 ملزمان کو سزا سنا دی گئی ، تینوں ملزمان کو جرمانہ اور قید کی سزائیں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مختلف منصوبوں کیلئے غیرقانونی طریقہ سے بیرون ملک پیسا بھیجنے کے مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ  نے کی۔

بحریہ ٹاؤن کے مختلف پروجیکٹس کیلئے غیرقانونی طریقہ سے رقم بھجوانے والے 3 مجرمان کو جرمانہ اور قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ تینوں ملزمان کو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت سزائیں سنائی گئیں۔ عدالت نے مجرمان کو ایک ایک سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا بھی حکم دیا۔

(جاری ہے)

مجرمان پر حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے سے بحریہ ٹاؤن کے مختلف پروجیکٹس کیلئے رقم بیرون ملک بھجوانے کا الزام تھا۔

دوسری جانب بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے پاک فوج کے سربراہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر کو ایک اہم خط لکھ کر اپنی قیمتی املاک کی مبینہ طور پر سستے داموں نیلامی کے خلاف مداخلت کی اپیل کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق  بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے خط میں مئوقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں اور زمینیں ان کی اصل مارکیٹ ویلیو سے انتہائی کم قیمت پر نیلام کی جا رہی ہیں، جس سے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں اوورسیز پاکستانیوں، بیواؤں اور عام شہریوں سمیت لاکھوں خاندانوں کی 372 ارب روپے سے زائد کی عمر بھر کی جمع پونجی لگی ہوئی ہے، جو اس وقت شدید خطرے میں ہے۔

بحریہ ٹاؤن نے آرمی چیف سے استدعا کی ہے کہ اس پورے معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور فی الحال املاک کی نیلامی کو فوری روکا جائے، خط میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا اور تمام دیرینہ تنازعات کو قانون، بات چیت اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔