سینیٹ اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی کی داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی ٹرانسمشن لائن جلد از جلد مکمل کرنے کی سفارش

ًکمیٹی نے پیسکو میں ڈیجیٹلائزیشن کے لیے فوری طور پر درکار فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کردی

پیر 20 جولائی 2026 17:16

ٍاسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 جولائی2026ء) سینیٹ اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی ٹرانسمشن لائن جلد از جلد مکمل کرنے کی سفارش کی ہے۔کمیٹی نے پیسکو میں ڈیجیٹلائزیشن کے لیے فوری طور پر درکار فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔کمیٹی کا اجلاس کنوینر سید وقار مہدی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ پیسکو کے میٹرز اور ڈیجیٹائزیشن کے اہم منصوبے کے لیے 7 ارب روپے درکار ہیں جبکہ حکومت نے صرف 2 ارب روپے جاری کیے ہیں۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ وزارت خزانہ فنڈنگ جاری نہ کرنے کے باعث کام متاثر ہو رہا ہے۔ اگر مکمل 7 ارب روپے مل جائیں تو منصوبہ جلد مکمل ہو کر صارفین کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں گی۔

(جاری ہے)

سینیٹر روبینہ خالد نے پشاور کے بازاروں میں لٹکتی ہوئی تاروں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تاروں کی وجہ سے کسی بھی وقت بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔

سینیٹر وقار مہدی نے بھی اس خطرے کی طرف توجہ دلائی۔کمیٹی نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیسکو) کے سی ای او کی عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ باقی تمام ڈسکوز کے سی ای اوز موجود ہیں، ہیسکو کے سی ای او کو بھی حاضر ہونا چاہیے تھا۔ کمیٹی نے سی ای او کو وضاحت طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر وقار مہدی نے حیدرآباد میں بجلی کے گھمبیر مسائل کا بھی ذکر کیا۔ کمیٹی کو ہیسکو حکام نے بتایا کہ میٹرز اور نئے گرڈ سٹیشن کے منصوبے پر 31 فیصد پیشرفت ہو چکی ہے۔ پاور ٹرانسفارمرز اور ٹاورز خرید لیے گئے ہیں۔ ان کی تنصیب کے بعد پیشرفت 60 فیصد ہو جائے گی۔حکام نے بتایا کہ داسو پاور ہاؤس 2028 میں مکمل ہو جائے گا، تاہم ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب میں شدید مسائل درپیش ہیں۔

جنگلوں میں ٹاورز کی چوری بڑا چیلنج ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپر کوہستان، لوئر کوہستان، شانگلہ اور بٹگرام سمیت مختلف علاقوں میں لوگوں کی طرف سے مفت بجلی کی طلب کی جا رہی ہے جس کے باعث کام رک رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ لنڈی کوتل سے شروع ہونے والی لائن کے افغان حصے پر طالبان حکومت کے آنے کے بعد مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ طالبان سے پہلے ایسے مسائل نہیں تھے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے مطالبہ کیا کہ ٹرانسمیشن لائن کے مکمل روٹ کا نقشہ کمیٹی کو فراہم کیا جائے۔کمیٹی کو پاور ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ ورلڈ بینک سے رابطہ کیا گیا ہے اور ورلڈ بینک نے طالبان سے بات چیت بھی کی ہے تاکہ مسئلہ حل ہو سکے۔کمیٹی نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ بجلی کی فراہمی بہتر ہو، چوری روکی جائے اور قومی منصوبوں میں تاخیر ختم کی جائے۔۔۔۔۔۔ اعجاز خان