ٴسوشل میڈیا نے تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا، لوگ صرف ٹرینڈز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جاوید اختر
ہفتہ 25 جولائی 2026 17:10
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ آج لوگ رک کر سوچنا، کسی خیال پر غور کرنا یا اس کا تجزیہ کرنا نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی زندگی میں مصروف ہیں اس لیے انہیں کائنات، فطرت یا زندگی کے بڑے سوالوں پر سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور ان کے نزدیک یہ وقت کا ضیاع ہے۔جاوید اختر کا کہنا تھا کہ حقیقی اور پائیدار تخلیق صرف صبر، بے چینی اور گہرے غور و فکر سے جنم لیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ غالب خیالات اور مقبول نظریات پر سوال اٹھایا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں کہی جانے والی بات اور عملی رویے میں فرق نظر آیا۔جاوید اختر نے موجودہ موسیقی کی صنعت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب مارکیٹنگ ٹیمیں یہ طے کرتی ہیں کہ کون سا گانا بنے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آج الفاظ کی اہمیت کم ہو گئی ہے کیونکہ مارکیٹنگ ٹیموں کا خیال ہے کہ دھیمے گانے ٹرینڈ نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کا ذوق بدل گیا ہے اور پرانے گانوں کا زمانہ گزر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی لوگ پرانے گانوں کے ابتدائی حصے (مکھڑا) لے کر انہیں کمزور بولوں کے ساتھ ری مکس کر دیتے ہیں۔جاوید اختر کے مطابق ماضی میں لکھنے والوں کو زیادہ آزادی حاصل تھی، جبکہ آج موسیقی پر دیگر عوامل حاوی ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے کئی دہائیاں پرانے گانے آج بھی زندہ ہیں جبکہ آج کے بہت سے گانے چند ہی دنوں میں بھلا دیے جاتے ہیں۔جاوید اختر نے نوجوان لکھنے والوں کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف کلاسیکی ادب ہی نہیں بلکہ ہلکا پھلکا ادب بھی پڑھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اصل نقصان معمولی چیز پڑھنے میں نہیں بلکہ کچھ بھی نہ پڑھنے میں ہے۔جاوید اختر نے کہا کہ ہر فن 2 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے اس کے ایک طرف تخیل، جذبہ، رومانس اور تصور ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف فنی مہارت۔انہوں نے کہا کہ تکنیک تو چند روزہ تربیت سے سیکھی جا سکتی ہے لیکن تخیل، خواب دیکھنے اور خواہش پیدا کرنے کا کوئی کورس نہیں ہوتا۔جاوید اختر کے مطابق کسی نظم یا گیت کا خیال کسی سماجی مسئلے، کسی شخصیت، کسی واقعے یا حتیٰ کہ اچھے موسم سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ لکھنے کے لیے کسی خاص ماحول کے محتاج نہیں۔جاوید اختر نے کہا کہ میں لوگوں سے بھرے کمرے میں، کسی تقریب میں یا مدھم روشنی میں بھی لکھ سکتا ہوں بس مجھے صرف بغیر لکیروں والا ایک سادہ کاغذ چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب الفاظ اور خیالات دستک دیں تو ان کا استقبال کرنا چاہیے۔انہوں نے اپنے والد کا ایک مشورہ یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ یہ سکھایا کہ مشکل زبان میں لکھنا آسان جبکہ سادہ زبان میں مؤثر انداز سے لکھنا سب سے مشکل کام ہے۔جاوید اختر کے بقول جب آپ سادہ الفاظ میں لکھتے ہیں تو بڑے بڑے الفاظ کے پیچھے اپنے خیال کو چھپانے کی گنجائش نہیں رہتی اس لیے سادہ زبان وہی استعمال کر سکتا ہے جو اپنے خیال پر مکمل یقین رکھتا ہو۔متعلقہ عنوان :
مزید فن و فنکار کی خبریں
-
عطا اللہ خان عیسی خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
-
جس گھر کو بدقسمت سمجھا وہی قیمتی سرمایہ بنا اور 450 کروڑ کا ہوگیا، جتیندرکا انکشاف
-
عاطف اسلم کی نئی البم صبح آئے نا ریلیز کیلئے تیار
-
اداکار شان بیگ اور روما مائیکل نے خاموشی سے شادی کرلی
-
گلوکار فواد خان اپنے منفرد انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئے
-
سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
-
لاہورڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
-
رجب بٹ سے طلاق کے تنازع پر ایمان فاطمہ آبدیدہ
-
جاہل رہنماء عوام کو بھی اپنی طرح جاہل بنانا چاہتے ہیں، نصیر الدین شاہ طلبہ پر تشدد ہوتا دیکھ کر برہم
-
اہلیہ پیشے کے اعتبارسے ڈاکٹر ،انتخاب والدہ نے کیا،رضوان علی جعفری
-
شاہ رخ خان کیساتھ کام کا تجربہ شاندار رہا، بھارتی مہمان نوازی، انکساری اور فراخ دلی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، جاوید شیخ
-
فواد خان کا نیا لٴْک ، مداح حیرت میں مبتلا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.