مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی تشدد اور آباد کاری پر اظہار تشویش

یو این منگل 28 جولائی 2026 12:00

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی تشدد اور آباد کاری پر اظہار تشویش

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 28 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حالیہ حملوں اور اسرائیلی حکام کی جانب سے غیر قانونی چوکیوں کو تیزی سے قانونی حیثیت دینے اور نئی بستیاں قائم کرنے کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں تمام اسرائیلی بستیوں اور چوکیوں کا قیام بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یہ بستیاں مسئلے کے دو ریاستی حل تک پہنچنے اور منصفانہ، پائیدار و جامع امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے حالیہ دنوں مغربی کنارے میں بڑھتے تشدد پر سخت تشویش ظاہر کی ہے جہاں جمعرات سے اب تک ایک بچے سمیت کم از کم آٹھ فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس تشدد کے دوران گھروں، مساجد، درختوں اور زرعی زمینوں کو آگ لگائی گئی یا انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ تشدد کی اس لہر کے باعث کم از کم 10 فلسطینی خاندان اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

نقل و حرکت پر پابندیاں

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور مختلف علاقوں تک رسائی پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ضروری خدمات بشمول ہنگامی طبی امداد اور روزگار کے مواقع تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔

اوچا کے مطابق، رواں سال اسرائیلی آبادکاروں سے منسوب 1,330 سے زیادہ ایسے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں فلسطینیوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا گیا۔ رواں سال اسرائیلی فورسز یا آبادکاروں کے ہاتھوں 77 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 18 بچے بھی شامل ہیں۔ اسی عرصہ میں فلسطینیوں کے حملوں میں تین اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے۔

اوچا نے کہا ہے کہ امدادی تنظیمیں مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ شہریوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے تشدد کے ذمہ دار افراد کا محاسبہ کیا جائے۔