پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں مزید تنزلی ، دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار

جولائی2026میں سبز پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی انڈیکس میں ایک درجے کی کمی آئی. عالمی ادارے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 28 جولائی 2026 15:28

پاکستانی پاسپورٹ   کی عالمی درجہ بندی میں مزید تنزلی ، دنیا کا چوتھا ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 جولائی ۔2026 ) عالمی ادارے”ہینلے پاسپورٹ انڈیکس“ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی مزید ایک درجے تنزلی کے بعد 101ویں نمبر پر آگیا ہے، جبکہ یہ بدستور دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس دنیا کے 199 ممالک کے پاسپورٹس کا 227 سفری مقامات تک ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی کی بنیاد پر جائزہ لیتا ہے اور اسی بنیاد پر عالمی درجہ بندی مرتب کرتا ہے.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق مئی میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو 30 ممالک تک ویزا فری یا ویزا آن ارائیول رسائی حاصل تھی، تاہم جولائی میں یہ تعداد کم ہو کر 29 ممالک رہ گئی، جس کے باعث پاکستان کی درجہ بندی 100ویں سے گر کر 101ویں نمبرپر پہنچ گئی ہینلے انڈیکس کی مختلف سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ جنوری 2021 سے مسلسل دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار دیا جا رہا ہے.

رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری جن ممالک کا بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں ہیں ان میں بارباڈوس‘ ک±ک آئی لینڈز‘ڈومینیکا ریپبلک‘ ہیٹی‘ مائیکرونیشیا‘ مونٹسیراٹ‘ روانڈا‘ سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز‘ گیمبیا‘ ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور وانواتوشامل ہیں. اسی طرح پاکستانی شہریوں کو16ممالک میں ویزا آن آرائیول کی سہولت دستیاب ہے جن میں برونڈی‘ کمبوڈیا‘ کومورو جزائر‘ جبوتی‘ گنی بساﺅ‘ مڈغاسکر‘ مالدیپ‘ موزمبیق‘ نیپال‘ نیوئے‘ پلاﺅ‘ ساموا‘ سینیگال‘ سیرا لیون‘ تیمور لیستے اور تووالوشامل ہیں اس کے علاوہکینیا، سیشلز اور سری لنکا کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) بھی حاصل کی جا سکتی ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سالکیپ وردے جزائر، موزمبیق اور قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت ختم کر دی ہے، حالانکہ جنوری میں یہ سہولت دستیاب تھی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں پاکستانی پاسپورٹ 97ویں نمبر پر تھا اور 32 ممالک تک رسائی حاصل تھی مارچ میں بھی 98ویں نمبر پر رہا‘مئی میں 100ویں نمبر پر آ گیا، جہاں 30 ممالک تک رسائی تھی جبکہ جولائی میں مزید ایک درجہ تنزلی کے بعد 101ویں نمبر پر پہنچ گیا.

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق اس وقت پاکستان سے نیچے صرف شام، عراق اور افغانستان ہیں، جبکہ یمن 30 ممالک تک ویزا فری رسائی کے ساتھ پاکستان سے ایک درجہ بہتر پوزیشن پر آ گیا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگاپور 192 ویزا فری یا ویزا آن ارائیول مقامات تک رسائی کے ساتھ بدستور دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ رکھتا ہے جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات 188 مقامات تک رسائی کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ سویڈن 187 مقامات تک رسائی کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے.

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی پاسپورٹ مسلسل عالمی درجہ بندی کے نچلے حصے میں رہاتاہم 2021 کے مقابلے میں اس کی پوزیشن میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے سال2024 یہ 100ویں‘ 2023 میں بھی 100ویں‘ 2022 32ممالک تک رسائی کے ساتھ109و یں جبکہ 2021 میں 107ویں نمبر پر تھا. ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی اس کی سفارتی ساکھ، بین الاقوامی تعلقات، ویزا پالیسیوں اور عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں بہتری کے لیے موثر سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں.