Live Updates

جرمنی میں دریائے رائن میں پانی کی کم سطح سے معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

DW ڈی ڈبلیو بدھ 29 جولائی 2026 17:00

جرمنی میں دریائے رائن میں پانی کی کم سطح سے معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 جولائی 2026ء) ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اس صورت حال سے جرمنی کی پہلے ہی سے سست روی کا شکار معیشت کی موسم گرما میں ترقی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

کِیل انسٹیٹیوٹ فار ورلڈ اکانومی نے منگل کے روز جاری کردہ اپنے ایک جائزے کے نتائج میں کہا کہ دریائے رائن میں پانی کی مسلسل کم سطح کے باعث رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں جرمنی کی اقتصادی پیداوار میں 0.2 فیصد تک کی کمی ہو سکتی ہے۔

ان نتائج کے مطابق طویل خشک موسم کے باعث یورپ کی مصروف ترین اندرون ملک آبی تجارتی گزرگاہ کے طور پر دریائے رائن میں پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یہ دریا نیدرلینڈز کی بڑی بندرگاہ روٹرڈیم کو مغربی جرمنی کے وسیع صنعتی اور تجارتی علاقوں سے ملاتا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں پیش گوئی کے مقابلے میں کم بارش ہوئی، جبکہ جرمنی کے قومی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دنوں میں ملک میں ایک بار پھر شدید گرمی کی لہر آئے گی، جس کے باعث خصوصاً دریائے رائن کے جنوبی حصوں میں پانی کی سطح مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پانی کی کم سطح معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

دریائے رائن کے ذریعے اناج، معدنیات، خام دھاتیں، کوئلہ اور پٹرول سمیت مختلف پٹرولیم مصنوعات بڑی مقدار میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائی جاتی ہیں۔

جب اس دریا میں پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے، تو مال بردار بحری جہاز اپنی مکمل گنجائش کے مطابق سامان نہیں لے جا سکتے، جس کے باعث ایک ہی کھیپ کو کئی جہازوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے۔

تجارتی شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق بعض اندرون ملک مال بردار جہاز اس وقت اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے صرف 15 سے 20 فیصد وزن کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ اس صورت حال سے نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے جرمنی کی اس معیشت پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے، جو حال ہی میں محدود پیمانے پر اپنی بحالی کے آثار دکھانا شروع ہوئی تھی۔

زیادہ تر ماہرین اقتصادیات کا اندازہ ہے کہ موسم گرما کے دوران جرمنی میں اقتصادی شرح نمو 0.2 فیصد سے زیادہ نہیں رہے گی، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ رکاوٹیں یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو دوبارہ جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

کِیل انسٹیٹیوٹ فار ورلڈ اکانومی کے بزنس سائیکل اور اقتصادی نمو کے تحقیقی شعبے کے ڈائریکٹر اشٹیفان کوتھز نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''یہ اثرات اتنے شدید ہو سکتے ہیں کہ تیسری سہ ماہی میں جرمنی کی جی ڈی پی میں 0.1 سے 0.2 فیصد تک کی کمی ہو جائے۔

‘‘

دریائے رائن پر واقع کاؤب کے مقام پر، جو کوبلینز اور مائنز کے درمیان ایک اہم آبی گزرگاہی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، منگل کے روز پانی کی پیمائش کرنے والے معیاری گیج کی سطح 30 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

جرمنی کے آبی گزرگاہوں کے ادارے کے مطابق جمعے تک یہ سطح مزید کم ہو کر تقریباً 25 سینٹی میٹر رہ جانے کا امکان ہے، جو اکتوبر 2018 میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے برابر ہو گی۔

اشٹیفان کوتھز نے کہا، ''چونکہ اگست کے آغاز میں پانی کی سطح کے اچانک اہم حد سے اوپر جانے کا امکان نہیں، اس لیے آئندہ ماہ بھی آبی مال برداری کی صلاحیت متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔‘‘

کمزور معیشت کے باعث اثرات کسی حد تک محدود رہنے کا امکان

اشٹیفان کوتھز کے مطابق اگر جرمنی کی معیشت معمول کے حالات میں ہوتی، تو دریائے رائن میں پانی کی مسلسل کم سطح کے باعث جولائی میں صنعتی سرگرمیوں میں تقریباً 0.8 فیصد کمی آتی، جبکہ مجموعی ماہانہ اقتصادی پیداوار میں بھی تقریباً 0.2 فیصد کی کمی واقع ہوتی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جرمن صنعتی شعبے کی موجودہ کمزور صورت حال کے باعث اس بحران کے مجموعی اقتصادی اثرات کسی حد تک محدود رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ڈوئچے بینک ریسرچ کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس مسئلے کو ایک اور اہم رکاوٹ نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دریائے رائن کے مشرقی کنارے پر واقع اہم ریلوے لائن مرمت اور تزئین و آرائش کے کام کے باعث 12 دسمبر تک مال بردار ٹرینوں کے لیے بند رہے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام حالات میں بھی ریلوے نظام اندرون ملک آبی راستوں کے ذریعے ہونے والی مال برداری کا صرف محدود حصہ ہی سنبھال سکتا ہے، اس لیے ریل لائن کی بندش سپلائی چین اور نقل و حمل کے نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

ادارت: مقبول ملک

Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات