پاکستان میں چیک پوسٹ پر حملہ: نو پولیس اہلکار ہلاک، 28 زخمی

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 30 جولائی 2026 12:40

پاکستان میں چیک پوسٹ پر حملہ: نو پولیس اہلکار ہلاک، 28 زخمی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 جولائی 2026ء) یہ حملہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کیا گیا، جہاں حکام کو حالیہ عرصے میں شدت اختیار کر جانے والی عسکریت پسندی کا سامنا ہے۔ پولیس نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا، ''اس حملے میں 9 پولیس اہلکار ہلاک اور 26 دیگر زخمی ہوئے، جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں 15 عسکریت پسند مارے گئے اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

‘‘

بیان کے مطابق اس جھڑپ کے دوران ایک بکتر بند اہلکار بردار گاڑی اور پولیس کی متعدد دیگر گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس حملے میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) بھی جان سے گئے۔

(جاری ہے)

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے، جس نے حالیہ عرصے میں خطے میں اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کی ہے، سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ جمعے کو بھی خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر خونریز حملہ کیا گیا تھا۔

اس حملے میں شدت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ایک سکیورٹی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی تھی، جس کے نتیجے میں فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور سرکاری ملازمین سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی فوج کے مطابق اس کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے 12 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان کا الزام

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان اس سے قبل بھی خیبر پختونخوا اور جنوبی صوبے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملوں کا ذمہ دار افغانستان سے سرگرم عسکریت پسندوں کو ٹھہراتا رہا ہے، تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

ان الزامات کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو چکی ہے اور سرحدی جھڑپیں بھی بار بار ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان نے افغانستان کے اندر ایسے فضائی حملے بھی کیے ہیں، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف عسکریت پسند تھے۔

دوسری جانب طالبان حکومت اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جون میں مشرقی افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملوں میں درجنوں شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔

صدر پ‍اکستان کے لیے سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ

اس حملے کے بعد ملکی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔

ایوان صدر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں ملک میں امن و امان کی مجموعی صورت حال، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے ملکی صدر کو دونوں صوبوں میں امن و امان کی موجودہ صورت حال اور وہاں دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان آرمی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی بہادری، پیشہ وارانہ صلاحیت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پوری قوم ملکی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔

ادارت: مقبول ملک