انتشاری کمیٹی کے مسلح شرپسندوں کی آزاد کشمیر میں قتل وغارت کے شواہد ایک بارپھر سامنے آ گئے

جمعرات 30 جولائی 2026 23:16

راولا کوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 جولائی2026ء) انتشاری کمیٹی کے مسلح شرپسندوں کی آزاد کشمیر میں قتل وغارت کے شواہد ایک بارپھر سامنے آ گئے۔کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کو مسلسل فائرنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے مذموم مقاصد کیلئے مساجد کی حرمت کو بھی پامال کیا ہے۔

امام جامعہ مسجد راولاکوٹ حافظ سعید نے شرپسندوں کی جانب سے مسجد کی بے حرمتی پر کہا کہ 27جولائی کو رات 12بجے انتشاری کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے مجھے مسجد سے باہر نکال دیا۔ایکشن کمیٹی کے عناصر کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ تھا جنہوں نے رینجرز پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔امام جامعہ مسجد راولاکوٹ حافظ سعید نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے کہا کہ اب مسجد میں نماز بھی نہیں ہو گی۔

(جاری ہے)

کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد کے اندر جانے کی اجازت بھی نہیں دے رہے۔آزاد جموں و کشمیر کے شہری نے بھی رینجرز پر انتشاری کمیٹی کی فائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چوک پر جب رینجرز اہلکار آئے تو کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔شہری کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح دہشت گرد کالے لباس میں ملبوس تھے جن کے پاس بھاری اسلحہ تھا۔ماہرین کے مطابق بیرونی آقاؤں کی ایمائ پرمذموم مقاصد کے حصول کیلئے یہ انتشاری کمیٹی آزاد جموں و کشمیر میں قتل وغارت چاہتی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اہلکار عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کیلئے پٴْرعزم ہیں۔