مقبوضہ جموںوکشمیر: بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی خصوصی عدالت نے 6کشمیریوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں

بدھ 5 اگست 2026 18:43

جموں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی( این آئی اے ) کی ایک خصوصی عدالت نے چھ کشمیری نظر بندوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ”این آئی اے“ مقدمات کے خصوصی جج پریم ساگر نے محمد مصطفی خان، محمد نعیم خان، محمد یاسین خان، محمد ابرار خان، محمد فاروق اور شیر علی چودھری کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں، ان تمام کو کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت مقدمات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں حریت رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت چار ہزار کے لگ بھگ کشمیری ”پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے“جیسے کالے قوانین کے تحت جیلوں اور عقوبت خانوںمیں ڈال رکھے ہیں۔

(جاری ہے)

بھارت جھوٹے مقدمات کے تحت بند ان لوگوں کو مختلف اوچھے ہتھکنڈوں سے انتقامی کارروائیوںکا نشانہ بنا رہا ہے ۔ انہیں بروقت عدالتوںمیں پیش نہیں کیا جاتا، اگر کسی نظر بندکی ضمانت منظور ہو بھی جائے تو اسکی رہائی میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نظربندوںکو طبی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، انہیں غیر معیاری غذا فراہم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اکثریت نظر بند پیچیدہ امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔