جنرل ہسپتال میں اینٹی سنیک وینم کی دستیابی سے سانپ کے ڈسے 10 افراد کی جان بچ گئی

ایک ماہ کے دوران اوکاڑہ ، قصور اور لاہور سے سانپ کے ڈسے افراد ایمرجنسی پہنچے مریضوں کو بلا معاوضہ معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ‘پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل

ہفتہ 8 اگست 2026 17:46

جنرل ہسپتال میں اینٹی سنیک وینم کی دستیابی سے سانپ کے ڈسے 10 افراد کی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اگست2026ء) جنرل ہسپتال میں اینٹی سنیک وینم کی فوری دستیابی اور ڈاکٹرز کی بروقت کاوشوں سے موسم برسات کے پہلے ماہ میں سانپ کے ڈسے 10 افراد کی جان بچا لی گئی تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ضلع اوکاڑہ، قصور اور لاہور کے گرد و نواح سے سانپ کے ڈسے 10 افراد کو جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا۔

ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹرز و ہیلتھ کیئر پروفیشنلز نے متاثرہ افراد کی حالت کے پیشِ نظر فوری طور پر اینٹی وینم انجکشن لگائے جس سے تمام مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی اور وہ شفایاب ہو رہے ہیں۔مریضوں کے اہلِ خانہ نے ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کی بروقت مدد اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل اور ایم ایس ایل جی ایچ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق جنرل ہسپتال میں مریضوں کو بلا معاوضہ معیاری طبی و تشخیصی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

ایمرجنسی سمیت تمام شعبوں میں 24 گھنٹے عملہ متحرک ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔ میڈیکل یونٹ 3 کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مقصود اور ڈاکٹر انعم بتول نے بتایا کہ گرمی کے موسم میں سانپ اور دیگر حشرات الارض باہر نکل آتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ کھیتوں اور گھاس والے مقامات پر جاتے وقت احتیاط برتیں، جوتے پہنیں اور رات کے وقت زمین پر سونے سے گریز کریں کیونکہ معمولی سی لاپرواہی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔سانپ کے ڈسے مریض کو بروقت طبی امداد ملنے سے قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے۔