خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کو سکولوں میں واپس لانے کیلئے اہم اقدام

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی موجودگی میں متعلقہ محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے منصوبے کے تحت ’’ون میپ‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ ڈیٹا نظام تشکیل دیا جائے گا، صوبے میں سکول سے باہر بچوں کی گھر گھر جامع سروے کے ذریعے نشاندہی، جغرافیائی پھیلاؤ ،سکول سے باہر رہنے کی وجوہات کا قابلِ اعتماد ڈیٹا مرتب کیا جائے گا

ہفتہ 15 اگست 2026 20:05

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اگست2026ء) خیبر پختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کے درمیان مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی موجودگی میں متعلقہ محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

منصوبے کے تحت ’’ون میپ‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ ڈیٹا نظام تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے صوبے میں سکول سے باہر بچوں کی گھر گھر جامع سروے کے ذریعے نشاندہی، ان کے جغرافیائی پھیلاؤ اور سکول سے باہر رہنے کی وجوہات کا قابلِ اعتماد ڈیٹا مرتب کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اس ڈیٹا کی بنیاد پر بچوں کو سکولوں میں واپس لانے، تعلیمی سہولیات کی منصوبہ بندی اور وسائل کی مؤثر تقسیم ممکن بنائی جائے گی۔

تقریب میں وزیر لوکل گورنمنٹ مینا خان، وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان، وزیر صحت خلیق الرحمٰن اور وزیر سماجی بہبود لیاقت علی خان کے علاوہ متعلقہ سیکرٹری موجود تھے۔ وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر کابینہ اراکین نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں سکول سے باہر بچوں کی درست تعداد اور ان کے جغرافیائی پھیلاو کا تعین کرنے کے لیے ’’ون میپ‘‘ نظام تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر بچوں کو سکولوں میں واپس لانے، تعلیمی سہولیات کی منصوبہ بندی اور وسائل کی مو ثر تقسیم ممکن بنائی جائے گی۔

حکام نے آگاہ کیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے، جبکہ محکمہ تعلیم کے مطابق تقریباً 26 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں ان سکول سے باہر بچوں میں سے 60 فیصد کو فوری طور پر سکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سروے کے دوران 0 سے 5 سال کی عمر کے بچوں کا ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں سکولوں کی تعداد، گنجائش اور دیگر تعلیمی سہولیات کی منصوبہ بندی زمینی حقائق اور آبادی کے متوقع تعلیمی تقاضوں کے مطابق کی جا سکے۔

سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دھارے میں لانے کے لیے سرکاری سکولوں کے ساتھ ڈبل شفٹ سکولوں، کمیونٹی سکولز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری سے بھی استفادہ کیا جائے گا، تاکہ بچوں کی مختلف ضروریات اور مقامی حالات کے مطابق تعلیم کے متبادل مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ بریفنگ کے مطابق غربت اور معاشی مشکلات کے باعث سکول چھوڑنے والے بچوں کو دوبارہ تعلیم کی طرف لانے کے لیے وظائف، زکوٰة اور دیگر سماجی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ 14 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے اقوام متحدہ کے پروگرام ’’جنریشن ان لمیٹڈ‘‘ کے تحت فنی تربیت کے مواقع پیدا کیے جائیں گے تاکہ وہ تعلیم کے ساتھ ہنر حاصل کرکے اپنے مستقبل کے لیے بہتر معاشی امکانات پیدا کر سکیں۔

منصوبے کی مو ثر نگرانی اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر سٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ سروے کے عمل اور ڈیٹا کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ایک آزاد ادارہ سروے شدہ ڈیٹا کے کم از کم پانچ فیصد حصے کی آزادانہ تصدیق کرے گا۔ بچوں کے لیے فراہم کیے جانے والے وظائف کی ادائیگی بھی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی، تاکہ مالی معاونت کے ساتھ بچوں کی باقاعدہ تعلیمی حاضری اور سکول میں برقرار رہنے کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں واپس لانا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے محکموں کے درمیان مو ثر اشتراک، درست اعداد و شمار اور قابلِ عمل حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر گھر سروے اور ’’ون میپ‘‘ نظام کے ذریعے حاصل ہونے والے مستند ڈیٹا کی بنیاد پر نہ صرف موجودہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لایا جائے گا بلکہ مستقبل میں سکولوں اور دیگر تعلیمی سہولیات کی منصوبہ بندی بھی زیادہ مو ثر انداز میں کی جا سکے گی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد میں شفافیت، میرٹ اور نتائج کو بنیادی اہمیت دی جائے اور تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز میں کام کرتے ہوئے مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔