پی ٹی آئی کی اپنے قائد کیلئے این آراو لینے کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے

بڑا یوٹرن یہ کہ جس شخص کو ناقابلِ شکست اور خود ساختہ مردِ آہن کہا گیا، آج پوری جماعت اسے ہسپتال منتقل کرانے کی فریاد کرتی نظر آرہی ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 18 اگست 2026 22:23

پی ٹی آئی کی اپنے قائد کیلئے این آراو لینے کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 18 اگست 2026ء )   وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی اپنے قائد کیلئے این آراو لینے کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، جس شخص کو ناقابلِ شکست اور خود ساختہ ’’مردِ آہن‘‘ کہا گیا، آج پوری جماعت اسے ہسپتال منتقل کرانے کی فریاد کرتی نظر آرہی ہے۔ ایکس پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف کی اپنے قائد کے لیے این آر او حاصل کرنے کی خواہش اب نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

آج پی ٹی آئی کے بے شمار ’’بانیوں‘‘ میں سے ایک بانی کو معزز عدلیہ کی جانب سے غیر معمولی ریلیف ملا، اور جس انداز میں پوری جماعت نے اس فیصلے پر جشن منایا، وہ اس کی اس شدید خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی طرح انکے نا اہل شدہ قائد کو جیل سے نکالا جائے۔

(جاری ہے)

یہ وہی شخص ہے جو ماضی میں دوسرے سیاست دانوں کو جیلوں میں ڈالنے اور ان کے لیے جیل کی زندگی مزید سخت بنانے کے مطالبات کیا کرتا تھا۔

ستم ظریفی کا شاید اس سے بڑا یوٹرن ممکن نہیں کہ جس شخص کو ایک ناقابلِ شکست اور خود ساختہ ’’مردِ آہن‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، آج اسی کی پوری جماعت اسے جیل سے ہسپتال منتقل کرانے کے لیے فریاد کرتی نظر آ رہی ہے۔ ہسپتالوں میں علاج تو پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی مجھے نیازی صاحب کو فوری، مؤثر اور مکمل طبی سہولت فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن عدالتی فیصلے پر خوشیاں منانے سے پہلے پی ٹی آئی کو اپنے بیانیے کے ان واضح تضادات کا جواب ضرور دینا چاہیے۔

یہ قدرت کا انتقام ہے۔ تکبر کے ہمالیہ پہاڑ سے آج مارگلہ کی پہاڑیاں بھی بلند ہیں۔ خلوص سے دعا ہے اللہ تعالیٰ عمران خان کو تمام بیماریوں سے شفا بخشے۔ آمین
دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ اتھارٹیز کا خیال ہے کہ عمران خان کو الشفاء اسپتال منتقل کرنے کا سپریم کورٹ کا حکم قانون کے مطابق نہیں ہے، نظرثانی اپیل کریں گے۔

بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق حکم کا جائزہ لیا گیا، فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ حکم نامے کے دیگر نکات پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔ کیا سپریم کورٹ کا حکم تمام قیدیوں کے لیے ہوگا؟ جیلوں میں بہت سے قیدی ہیں جن کی صحت کے مسائل ہیں۔ سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کا حکم تمام قیدیوں کے لیے ہو گا؟