صادق آباد ،منشیات کا بڑھتا ہوا ناسور، نوجوان نسل کے مستقبل پر سوالیہ نشان، شہری حلقوں کی تشویش

پیر 31 اگست 2026 22:59

صادق آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 31 اگست2026ء) صادق آباد جیسے خوبصورت، پُرامن اور محبتوں سے بھرپور شہر میں چرس، شراب، ہیروئن اور دیگر خطرناک منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ منشیات کا زہر بالخصوص نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کی روک تھام کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے معاشرتی اثرات انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

شہری حلقوں کے مطابق منشیات نہ صرف نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہیں بلکہ تعلیم، روزگار، خاندانی نظام اور معاشرتی امن پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کئی خاندان اس عفریت کے باعث اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید فکرمند ہیں۔

(جاری ہے)

والدین کا کہنا ہے کہ ان کے آنگن کے روشن چراغ منشیات کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی صلاحیتیں اور زندگی کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشی کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کی جائے، منشیات کے سپلائی نیٹ ورک اور مبینہ سوداگروں کا سراغ لگا کر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، والدین، سماجی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر نوجوان نسل کو منشیات سے دور رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ خاموشی اب مسئلے کا حل نہیں۔ اگر معاشرے نے منشیات کے پھیلاؤ کے خلاف بروقت آواز نہ اٹھائی تو آنے والی نسلیں اس کے سنگین نتائج بھگت سکتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، علماء، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور ہر باشعور شہری کو چاہیے کہ وہ منشیات کے خلاف اپنا کردار ادا کرے اور نوجوانوں کو صحت مند، مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرے۔

شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صادق آباد میں منشیات کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن، آگاہی پروگرامز، تعلیمی اداروں کی نگرانی اور بحالیِ منشیات کے مراکز تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہر کے نوجوانوں کو اس خطرناک لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے۔سماجی اور مذہبی حلقوں نے کہا ہے کہ صادق آباد ہمارا شہر ہے، اس کے نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ منشیات کے خلاف جنگ کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جاہلانہ خاموشی توڑی جائے اور اپنی نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز بلند کی جائے۔\378