لوگ زکوة کا ڈھائی فیصد پوری دیانت داری سے دیں تو حکومتی بجٹ سے 3 گنا زیادہ رقم جمع ہوسکتی ہے‘ ڈاکٹرامجد ثاقب

ہفتہ 5 ستمبر 2026 13:04

لوگ زکوة کا ڈھائی فیصد پوری دیانت داری سے دیں تو حکومتی بجٹ سے 3 گنا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 ستمبر2026ء) اخوت فائونڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹرامجد ثاقب نے کہا ہے کہ مستحق شخص کو تلاش کرنے کے لیے بھی اتنی ہی محنت کرنی چاہیے جتنی انسان دولت کمانے کے لیے کرتا ہے کیونکہ خیرات و عطیات دینے سے پہلے حقدار کو ڈھونڈنا نہایت ضروری ہے۔عالمی یوم خیرات کے موقع پر انٹر ویو میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ دنیا نے خیرات کو منانے کے لیے ایک دن مقرر کیا ہے لیکن خیرات کو صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقیقت میں ہر دن ہی یوم خیرات ہونا چاہیے کیونکہ خیرات سے مراد صرف رقم دینا نہیں بلکہ کسی کی مدد کرنا، کسی کے آنسو پونچھنا اور اس کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ خیرات کا مقصد کسی کو مستقل محتاج بنانا نہیں بلکہ اس کی عزت نفس کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ اخوت فائونڈیشن لوگوں کو خیرات کا عادی بنانے کے بجائے قرض حسنہ کے ذریعے ان کو باعزت روزگار کی طرف لانے کی کوشش کرتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ مستحق اور معتبر اداروں کی تلاش اب مشکل نہیں رہی۔

پاکستان سینٹر فار فلنتھروپی ایک آزاد ادارہ ہے جس نے ہزاروں این جی اوز کے لیے معیار مقرر کیے ہیں اور لوگ اس کی ویب سائٹ پر صحت، تعلیم، چھوٹے قرضوں یا یتیم خانوں کے شعبے میں معتبر ادارہ تلاش کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا حق مستحق رشتہ داروں کا ہے، اس کے علاوہ ہر صاحب حیثیت شخص اپنے ملازمین، جیسے ڈرائیور یا باورچی کے بچوں کی تعلیم اور ہنر کی ذمہ داری لے سکتا ہے۔

اگر لوگ اپنی زکو ةکا صرف ڈھائی فیصد بھی پوری دیانت داری سے ادا کریں تو بعض حسابات کے مطابق ہر سال حکومت پاکستان کے بجٹ سے کم از کم 3 گنا زیادہ رقم جمع ہوسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اخوت کا تصور 1400 سال پرانی مواخات مدینہ سے لیا گیا ہے، اگر ایک انصار اور ایک مہاجر مل کر زندگی بنا سکتے ہیں تو پاکستان میں بھی 50 فیصد بہتر حیثیت والے اور 50 فیصد کمزور لوگ مل کر ایک بہتر معاشرہ بنا سکتے ہیں۔

ایک یادگار واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخوت یونیورسٹی کے لیے ایک اینٹ خریدیں، یونیورسٹی بنائیں مہم میں ایک اینٹ کی قیمت 1000 روپے رکھی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک 70 سالہ خاتون نے کہا کہ ان کے پاس 1000 نہیں صرف 500 روپے ہیں تو کیا انہیں آدھی اینٹ مل سکتی ہے۔ میرے نزدیک وہ آدھی اینٹ ہزاروں اینٹوں سے بڑھ کر تھی کیونکہ اصل قدر اس بات میں ہے کہ انسان اپنے پاس سے کتنا حصہ دیتا ہے۔