ٴْقائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط، کارِ استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا اجلاس

جمعرات 3 ستمبر 2026 22:30

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 ستمبر2026ء) خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط، کارِ استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ڈپٹی اسپیکر و چئرپرسن قائمہ کمیٹی ثریا بی بی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم، کمیٹی اراکین، متعلقہ اراکین صوبائی اسمبلی اور محکمہ قانون، پولیس، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، پیسکو اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے تحریکِ استحقاق کے مختلف معاملات اور متعلقہ محکموں کی جانب سے دی گئی حکومتی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

رکن صوبائی اسمبلی محترمہ مہر سلطانہ کی جانب سے ضلع کرک میں طویل لوڈشیڈنگ اور پیسکو حکام کے مبینہ نامناسب رویے سے متعلق تحریکِ استحقاق پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کمیٹی نے عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیسکو حکام کو مسائل کے فوری حل اور منتخب نمائندوں سے مؤثر رابطے کی ہدایت کی۔چیف انجینئر پیسکو نے یقین دہانی کرائی کہ اراکین صوبائی اسمبلی کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا، جبکہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے جدید میٹرنگ نظام متعارف کرانے کے اقدامات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، تاہم اس کے نقصانات کا بوجھ بے گناہ صارفین پر نہ ڈالا جائے۔

اجلاس میں پختون یار خان کی کمشنر بنوں سے متعلق اور محمد عبدالسلام آفریدی کی پولیس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق تحریکِ استحقاق بھی زیرِ بحث آئیں۔ متعلقہ افسران کی عدم موجودگی کے باعث یہ معاملات آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیے گئے جبکہ پولیس سے متعلق معاملے میں کمیٹی نے عوام اور منتخب نمائندوں کے ساتھ باعزت، ذمہ دارانہ اور شائستہ رویہ یقینی بنانے پر زور دیا۔

ڈپٹی اسپیکر و چئرپرسن کمیٹی ثریا بی بی نے ہدایت کی کہ سرکاری محکمے اراکین صوبائی اسمبلی کے ساتھ مکمل تعاون اور مؤثر رابطہ برقرار رکھیں اور اسمبلی فلور پر اٹھائے گئے عوامی مسائل و حکومتی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے منتخب نمائندوں سے بڑی توقعات وابستہ رکھتے ہیں، اس لیے سرکاری اداروں اور عوامی نمائندوں کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور مؤثر رابطہ عوامی مسائل کے بروقت حل کے لیے ناگزیر ہی