لاکھوں ووٹرز کے شہریت کے ڈیٹا تک ٹرمپ کی رسائی پر پابندی برقرار

اپیل کورٹ کے ججوں کا شہریت کے بارے میں معلومات کے امکان سے متعلق بھی خدشات کااظہار

اتوار 6 ستمبر 2026 10:35

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 ستمبر2026ء) امریکی وفاقی اپیل کورٹ کے ایک پینل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس درخواست کو رد کر دیا ہے جس میں ریاستوں کی ووٹر فہرستوں میں شہریت کے ریکارڈ کی درستی کی تصدیق کے لیے ہجرت کے وفاقی ڈیٹا بیس کو استعمال کرنے پر عائد پابندی ختم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جاری ہونے والے دو کے مقابلے ایک ووٹ کے فیصلے میں ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اپیل کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کی منسوخی کو رد کر دیا جس میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ڈیٹا بیس کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی۔

پچھلے فیصلے میں یہ کہا گیا تھا کہ حکومت کو 3 نومبر کو ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے اس سسٹم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں جن میں ریپبلکنز کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

(جاری ہے)

سابق صدر باراک اوباما کی طرف سے اپیل کورٹ میں نامزد کیے گئے چیف جج سری نواسن اور سرکٹ جج رابرٹ ولکنز نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کی حمایت کی کہ یہ تصدیقی نظام سوشل سکیورٹی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ یہ لاکھوں امریکیوں کی نجی شخصی معلومات شیئر کرتا ہے۔

اپیل کورٹ کے ججوں نے شہریت کے بارے میں معلومات کے امکان سے متعلق خدشات کا بھی اشارہ دیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو ووٹر فہرستوں میں رجسٹرڈ رہنے کے لیے اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورت حال بعض حالات میں ووٹر کے طور پر ان کی رجسٹریشن کی منسوخی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ٹرمپ کے نامزد کردہ سرکٹ جج گریگوری کاٹساس نے اکثریت کی رائے سے اختلاف کیا۔فلوریڈا کے ایک جج نے جولائی میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ ریپبلکنز کی قیادت والی چار ریاستوں کو ڈیٹا بیس تک رسائی دوبارہ فراہم کرے۔ اس سے قبل ایک اور جج نے محکمے کو ملک گیر سطح پر ڈیٹا بیس کا استعمال جاری رکھنے سے روک دیا تھا۔