پنجاب کے 2200 سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر انکوائری شروع

جن اسکولوں کے اساتذہ کا نتیجہ 20 فیصد سے کم ہے انہیں نوکریوں سے فارغ کریں گے، وزیرتعلیم پنجاب رانا سکندر حیات

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 11 ستمبر 2026 15:32

پنجاب کے 2200 سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پر انکوائری شروع
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 ستمبر 2026ء)   پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نتائج کی خراب کارکردگی پر محکمہ تعلیم نے کارروائی کا آغاز کردیا، 20 فیصد یا اس سے کم نتائج دینے والے 2200 اسکولوں کی نشاندہی کرلی گئی۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کے مطابق نویں جماعت کے امتحانات میں 20 فیصد سے کم نتائج دینے والے اسکولوں کے پرنسپلز اور سربراہان کو تین روز میں وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران نے خراب نتائج دینے والے اسکولوں کے خلاف انکوائری بھی شروع کردی ہے۔ رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ متعلقہ سکول سربراہان کو تعلیمی معیار اور طلبہ کے نتائج میں بہتری لانے کا حکم دیاگیاہے جبکہ 20 فیصد سے کم رزلٹ دینے والے اساتذہ کو ملازمت سے ہٹایا جائے گا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ اساتذہ کے خلاف کارروائی کے لیے طویل انکوائریاں نہیں چلائی جائیں گی بلکہ کم نتائج کی بنیاد پر براہ راست ایکشن لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو استاد مسلسل تین سے پانچ سال تک خراب نتائج دے رہا ہے، اسے عہدے پر برقرار رہنے کا حق نہیں۔ دوسری جانب بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں انعامات بھی دیے جائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق کارروائی کا مقصد سرکاری اسکولوں میں تدریسی معیار اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کو بہتر بنانا ہے۔