رانا ثناءاللہ کو ہر سیاسی جدوجہد میں 9 مئی ہی نظر آتا ہے، بندہ جس ذہنیت کا ہو، اسی طرح سوچتا ہے، شفیع جان

وہ کہتے ہیں ایک اور 9 مئی کی تیاری ہو رہی ہے، ان کا مائنڈ سیٹ ماڈل ٹاؤن اور مریدکے والا ہے، پہلے اپنے ماضی کا حساب دیں، پھر دوسروں پر انگلی اٹھائیں۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ کا خطاب

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 11 ستمبر 2026 20:40

رانا ثناءاللہ کو ہر سیاسی جدوجہد میں 9 مئی ہی نظر آتا ہے، بندہ جس ذہنیت ..
پشاور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 ستمبر 2026ء ) وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان کا کہنا ہے کہ رانا ثناءاللہ کو ہر سیاسی جدوجہد میں 9 مئی ہی نظر آتا ہے، بندہ جس ذہنیت کا ہو، اسی طرح سوچتا ہے، وہ کہتے ہیں ایک اور 9 مئی کی تیاری ہو رہی ہے، ان کا مائنڈ سیٹ ماڈل ٹاؤن اور مریدکے والا ہے، پہلے اپنے ماضی کا حساب دیں، پھر دوسروں پر انگلی اٹھائیں۔

انہوں نے کےپی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 27 ستمبر کو اگر کسی نے گولی چلانی ہے تو چلا لے، اگر کسی نے نااہل کرنا ہے تو کر لے۔ ہم ہر حال میں مقابلہ کریں گے۔ عمران خان کے ناحق قید اور عوام کے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ، ان شاء اللہ، ہو کر رہے گا۔

(جاری ہے)

یہ لوگ اپنی ہی تاریخ دہرا رہے ہیں۔

ایک طرف ہمارے کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام لگاتے ہیں، دوسری طرف خود کالعدم تنظیموں سے کہتے ہیں کہ پنجاب میں کارروائیاں نہ کریں۔ قوم کو اب یہ دوغلا پن اور تضاد سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مئی میں بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے، پاکستان نے جس جرات اور بھرپور انداز میں جواب دیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن افسوس کہ معرکۂ حق کے دوران مریم بی بی اور نواز شریف نے مودی کے خلاف ایک لفظ تک نہیں کہا۔

اپنی تاریخ دہرانے والوں کو اپنی ہی تاریخ یاد رکھنی چاہیے۔ جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری تھا، اُس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بارڈر پر پختون بھائیوں کی پنجاب آمد روکنے کے احکامات دیے تھے۔ یہ بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے۔ ہم پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کو دہشت گردی کے نام پر تقسیم کرنے کی بحث میں نہیں پڑتے، سب پاکستانی ہیں۔

لیکن تاریخ ضرور دیکھیں کہ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر حملے، گرفتاریاں اور سیاسی قیدیں کہاں ہوتی رہی ہیں۔ آج بھی سیاسی قیدی پنجاب کی جیلوں میں ہیں اور عمران خان اڈیالہ جیل میں ناحق قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے مودی کو بری الذمہ قرار دے کر قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ پنجاب کو پڑوسی ملک سے نہیں بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے کہنا نہ صرف دشمن بھارت کو کلین چٹ دینے کے مترادف ہے بلکہ پاک فوج کے چار سالہ مؤقف اور بھارتی جارحیت کے خلاف قومی بیانیے کی بھی کھلی نفی ہے۔

اگر دشمن سے خطرہ نہیں تو پھر مودی کی جارحیت اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا ذمہ دار کون ہے؟ اپنے ہی صوبوں کو نشانہ بنانا سیاسی تعصب کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس، میمو گیٹ سے آج کے بیان تک، قوم سب کچھ یاد رکھتی ہے۔ مریم نواز کے بیان پر بھارتی میڈیا ایک ہفتے سے مسلسل پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے، مگر مودی کے خلاف ایک لفظ نہیں نکلتا۔

دشمن کو نظرانداز کرکے اپنے ہی صوبوں کو خطرہ قرار دینا سیاسی تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ رانا ثناء اللہ کو ہر سیاسی جدوجہد میں 9 مئی ہی نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک اور 9 مئی کی تیاری ہو رہی ہے۔ بندہ جس ذہنیت کا ہو، اسی طرح سوچتا ہے؛ ان کا مائنڈ سیٹ ماڈل ٹاؤن اور مرید کے والا ہے۔ اور آج جن اداروں کے دیے ہوئے ثبوتوں کی بنیاد پر وہ بات کر رہے ہیں، انہی اداروں کے حوالے سے ماضی میں رانا ثناء اللہ پر کالعدم تنظیموں اور ان کے کارکنوں سے انتخابی روابط کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔

پہلے اپنے ماضی کا حساب دیں، پھر دوسروں پر انگلی اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو خیبرپختونخوا سے آئیں گے، روک سکتے ہو تو روک لو۔ اٹک ریڈ لائن ہے کہنے والوں کو ہم بتا چکے ہیں کہ عوامی جدوجہد کو کوئی ریڈ لائن نہیں روک سکتی۔ رانا ثناء اللہ  کان کھول کر سن لے27 ستمبر کو خیبرپختونخوا سے آئیں گے، اگر کسی میں ہمت ہے تو روک کر دکھائے۔