خیبر پختونخوا اسمبلی میں مریم نواز اور رانا ثناءاللہ کے بیانات کے خلاف قرارداد منظور

آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کا مطالبہ‘ دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی کے لیے استعمال کرنا قومی مفاد کے منافی ہے. قرارداد کا متن

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 11 ستمبر 2026 20:57

خیبر پختونخوا اسمبلی میں مریم نواز اور رانا ثناءاللہ کے بیانات کے خلاف ..
پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 ستمبر ۔2026 ) خیبر پختونخوا اسمبلی میں مریم نواز اوررانا ثناءاللہ کے بیانات کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی جس میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تقاضوں کی روشنی میں کارروائی کا مطالبہ کیا گیا خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیر قانون آفتاب عالم نے قرارداد پیش کی، ایوان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعظم کے مشیررانا ثناءاللہ اور پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے جوڑنے والے بیانات کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی.

(جاری ہے)

قرارداد میں خیبر پختونخوا کے خلاف مبینہ طور پر غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی کے لیے استعمال کرنا قومی مفاد کے منافی ہے قرارداد کے متن کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر نون لیگی راہنماﺅں کے بیانات حقائق کے منافی اور سیاسی مفادات پر مبنی ہیں جبکہ ایسے بیانات خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی بے مثال قربانیوں کی توہین کے مترادف ہیں.

قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کا مشترکہ چیلنج ہے، اس لیے قومی سلامتی کے اس حساس معاملے کو سیاسی الزام تراشی سے بالاتر رکھتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق زیر بحث لایا جانا چاہیے. قرارداد کے متن کے مطابق دہشت گردی کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا اور ایک صوبے کو دوسرے صوبے کے خلاف کھڑا کرنا قومی یکجہتی اور پاکستان کی وفاقی وحدت کے لیے نقصان دہ ہے، قرارداد میں قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف یکجہتی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا.

قرارداد میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف آئین شکنی کے حوالے سے قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا اسمبلی نے وفاقی حکومت سے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تقاضوں کی روشنی میں ضروری کارروائی کی جائے خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان قربانیوں کو متنازع بنانا یا صوبے کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش قابل مذمت ہے.

خیبر پختونخوا اسمبلی نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے الزام تراشی کے بجائے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون، قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کو فروغ دیا جائے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں، تمام صوبوں اور عوام کی مشترکہ جدوجہد کو مضبوط بنایا جائے.