پنجاب یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر کی سوئٹزرلینڈ میں کلائمیٹ ٹیک سمر سکول میں شرکت

جمعہ 11 ستمبر 2026 18:09

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2026ء) پنجاب یونیورسٹی ہیلی کالج آف کامرس کے لیکچرار حافظ فواد علی نے سوئٹزرلینڈ میں زیورخ یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کی میزبانی میں منعقد ہ کلائمیٹ ٹیک سمر اسکول 2026ء بعنوان’’شہری موسمیاتی موافقت اور تحفظ کے لیے اختراعات‘‘ میں شرکت کی۔ اس بین الاقوامی سمر سکول میں مختلف تعلیمی اور پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی، جہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ، پائیدار اور رہنے کے لیے بہتر شہروں کی تشکیل کے لیے جدید اور اختراعی حل تلاش کرنے پر غور کیا گیا۔

پروگرام میں بین الشعبہ جاتی نقطہ نظر اختیار کیا گیا، جس میں شہری موسمیاتی موافقت اور تحفظ کے ساتھ ساتھ جدت، کاروباری صلاحیت اور عملی مسائل کے حل کو بھی شامل کیا گیا۔

(جاری ہے)

پروگرام کے دوران حافظ فواد علی نے بین الشعبہ جاتی تعلیمی سرگرمیوں اور باہمی تعاون پر مبنی عملی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جن کا مقصد شہری علاقوں کو درپیش موجودہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حل تلاش کرنا تھا۔

سمرسکول نے بین الاقوامی شرکاء، ماہرینِ تعلیم، ماہرین، اسٹارٹ اًپس اور جدت کے شعبے سے وابستہ دیگرسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تبادلہ خیال کے مواقع بھی فراہم کیے۔ اس دوران خیالات کو عملی حل میں تبدیل کرنے کے لیے کاروباری اور اختراعی طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سمر اسکول کی کامیاب تکمیل پر حافظ فواد علی نے 6 (ECTS )کریڈٹس حاصل کیے، جو اس پروگرام کی تعلیمی اہمیت اور بھرپور نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان کی شرکت کوای ای ایل آئی ایس ای( EELISA) کی جانب سے فراہم کردہ مالی معاونت حاصل رہی۔ حافظ فواد علی نے اس بین الاقوامی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے موقع کو ممکن بنانے پرای ای ایل آئی ایس اے اورزیچ ایچ اے ڈبلیوکا شکریہ ادا کیا۔ کلائمیٹ ٹیک سمرسکول میں شرکت نے انہیں بین الاقوامی تجربہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی لچک، پائیدار شہری ترقی، بین الشعبہ جاتی جدت اور کاروباری صلاحیت کے شعبوں میں ان کے علم اور فہم کو مزید مضبوط کیا۔

یہ شرکت اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز، بالخصوص موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ اور لچکدار شہروں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعلیمی روابط اور علمی تبادلے ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔