مرکز کے ساتھ صوبوں میں بھی نگران حکومتوں کے قیام کے لیے مشاورت کا عمل تیز ۔بعض نئے نام بھی سامنے آگئے ، ماضی کی نگران حکومتوں کا حصہ رہنے والے اچھی شہرت والے افراد کو بھی نگران حکومتوں میں شامل کرنے کا فیصلہ

نگران وزیراعظم کے لیے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ طور پر سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نام دے دیا مسلم لیگ ن کی طرف سے جسٹس( ر) شاکر اللہ جان کا نام تجویز دونوں اس وقت تک موسٹ فیورٹ امیدوار ہیں

پیر اپریل 21:19

آسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر اپریل ء)مرکز کے ساتھ ساتھ اب صوبوں میں بھی نگران حکومتوں کے قیام کے لیے مشاورت کا عمل تیز ہوگیا ہے اور اس کے لیے بعض نئے نام بھی سامنے آگئے ہیں جبکہ اچھی شہرت والے ان افراد کو بھی نگران حکومتوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ ماضی کی نگران حکومتوں کا بھی حصہ رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ نگران وزیراعظم کے لیے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس( ر )تصدق حسین جیلانی نام دے دیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس( ر) شاکر اللہ جان کا نام تجویز کیا گیا ہے اور یہ دونوں اس وقت تک موسٹ فیورٹ امیدوار ہیں۔سابق گورنر سٹیٹ بینک عشرت حسین اور سابق وزیر تجارت عبد الرزاق داؤد بھی نگران وزیراعظم کی دوڑ میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلی کے لیے بھی ایک سابق جج اور دو سابق چیف سیکرٹریز کے نام زیر غور ہیں۔پنجاب کے نگران وزیر اعلی کے لیے ایک سابق چیف سیکرٹری کا نام زیر غور،بھی ہے اس کے علاؤہ طارق کھوسہ،سلمان شاہ اور شاہد کاردار کے نام بھی تحریک انصاف کی جانب سے تجویز کر دئیے گئے ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کا نگران وزیر اعلی ایک سابق فوجی جرنیل ہو سکتا ہے تاہم وہاں بھی ایک ٹیکنوکریٹ کا نام زیر غور ہے مرکز میں نگران کابینہ کے لیے عطائ الرحمن،ملیحہ لودھی،تیمور ملک،عباس خان،شکیل درانی،تیمور عظمت عثمان،ادیب رضوی،مشتاق چہاپرہ کے نام زیر غور ہیں ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ مقتدر ادارہ کی کلیئرنس تمام امیدوار وں کے لیے لازمی ہوگی ۔

مرکز میں نگران وزیراعظم کے لیے عبد الرزاق داؤد بھی تحریک انصاف کی فہرست میں بطور نگران وزیراعظم شامل ہیں دوسری طرف ڈاکٹر عشرت بھی ہیں۔

Your Thoughts and Comments