وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کیمپس کا نام تبدیل کرکے شیخ ایاز یونیورسٹی کرنے سمیت بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018میں ترمیم کی تجاویز کی منظوری دی بیگم نصرت بھٹو وویمن یونیورسٹی 271 کروڑ روپے کی لاگت سے سکھر میں تعمیر کی جارہی ہے اور یہ یونیورسٹی صرف لڑکیوں کیلئے ہوگی، سندھ کابینہ

پیر اپریل 23:25

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر اپریل ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے، سندھ کابینہ نے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کیمپس کا نام تبدیل کرکے شیخ ایاز یونیورسٹی کرنے سمیت بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018میں ترمیم کی تجاویز کی منظوری دی گئی۔

بیگم نصرت بھٹو وومن یونیورسٹی 271 کروڑ روپے کی لاگت سے سکھر میں تعمیر کی جارہی ہے اور یہ یونیورسٹی صرف لڑکیوں کے لیے ہوگی اس کے علاوہ شعبہ زراعت، این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے سمیت انٹراسٹی کیلئے 10 اے سی بسوں کیلئے پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے، 12 نکاتی ایجنڈے کے تحت جن تجاویز کی منظوری دی ہے اسے جلد ترمیمی بلز کی صورت میں منظوری کیلئے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں نئی زراعت پالیسی، ایاز تنیو کو بطور نئے پراسیکیوٹر جنرل تعینات ، گورنر کے اعتراضات کے بعد این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے، انٹراسٹی منصوبہ کیلئے 10 اے سی بسوں کے پائلٹ پروجیکٹ، سندھ یوتھ پالیسی، قبل ازیں سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا، اجلاس میں تمام صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری سندھ ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت و دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

سندھ کابینہ کے اجلاس میں بعض بلوں کی منظوری دیئے جانے پر بحث کی گئی جن میں سندھ کابینہ کا گزشتہ اجلاس 9 اپریل 2018 کے منٹس کی منظوری ،پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی، لیبر کورٹ کے پریزائیڈنگ آفیسرز کی نامزدگی ، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ارکان کے لیے شرائط و ضوابط طے کرنا ، این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے کے بل 2018 پر گورنر کے اعتراضات پر غور، پائلٹ پروجیکٹ بسوں کے کرایوں کا تعین ، 2018 سے 2030 تک سندھ زرعی پالیسی ، سندھ یوتھ پالیسی، سندھ اسپورٹس بورڈ آرڈیننس میں ترمیم کی منظوری ، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینا، بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018 کی پرزینٹیشن اور ایڈیشنل ایجنڈا آئٹم میں سندھ انڈسٹری رجسٹریشن ایکٹ - 2018 کی تشکیل شامل ہیں۔

اجلاس میں پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی سے متعلق بحث کی گئی جس پر وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ گزشتہ اجلاس میں فیاض شاہ کا نام منتخب ہوا تھا مگر کم عمر ہونیکے باعث ان کی تعیناتی نہ ہوسکی اور ان کی جگہ ایاز تنیو کو بطور نیا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کرنے کی منظوری دی جائے جس کے بعد سندھ کابینہ نے تجویز منظورکرلی۔اسکے بعد اجلاس میں گورنر سندھ کی جانب سے اعتراضات کیے گئے این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے کے بل 2018 پر غور کیا گیا جوکہ سندھ اسمبلی نے 26 فروری 2018 کو منظوری کے بعد گورنر سندھ کو بھیجا تھا جس پرگورنر سندھ نے کچھ اعتراضات کے بعدبل دوبارہ نظرثانی کیلئے واپس کردیا جنکا خیال ہے کہ متعلقہ اساتذہ یونین کانسل/تعلقہ سطح پر تعینات ہوئے تھے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متعلقہ اساتذہ اپنی یونین کانسل یا تعلقہ سے تبادلہ نہیں کرائیں گے۔

جس پر سندھ کابینہ نے مجوزہ بل کی منظوری دیتے ہوئے بتایا کہ جب این ٹی ایس پاس اساتذہ بھرتی ہوئے تھے تب خواتین اساتذہ کے تبادلہ پر 3 سال جبکہ مرد اساتذہ کے تبادلہ پر 5 سال کی پابندی تھی جوکہ مدت پوری ہوچکی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اگر ٹیچر کا تبادلہ کردیا جائے تو اسکی جگہ دوسرے استاد کو ضرور تعینات کیا جائے، چاہتا ہوں کہ صوبے کا کوئی بھی اسکول بنیادی سہولت سے محروم نہ رہیاورخصوصا دیہات کے اسکول بہترین طریقے سے چلائے جائیں۔

سندھ کابینہ نے محکمہ کو پابند کیا کہ ٹرانسفر کا مقصد اسکول خالی کرنا نہیں، اساتذہ کے تبادلے کے وقت طالب علم/اساتذہ کے تناسب کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ اسکے بعد اجلاس میں انٹراسٹی کے لیے 10 اے سی بسوں کیلئے پائلٹ پروجیکٹ ایجنڈا زیر بحث لایا گیا۔ جس پر وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصر شاہ نے کابینہ کو بتایا کہ 24 سیٹر 10 اے سی بسیں کراچی کے اہم شاہراہوں پر چلائی جائیں گی جس میں قائدآباد، ملیر ہالٹ، اسٹار گیٹ، شاہ فیصل کالونی، ناتھا خان، ڈرگ روڈ، پی اے ایف گیٹ، کارساز/مہران بیس، بلوچ کالونی، نرسری، ایف ٹی سی بلڈنگ، جناح اسپتال اسٹاپ، گیٹ شاپ، میٹروپول ہوٹل، نیول فانڈیشن (فوارہ چوک)، آرٹس کانسل، آئی آئی چندریگر روڈ، جنگ پریس، الفلاح بنک اسٹاپ اور ٹاور شامل ہیں، بسوں کے کرایہ میں 5 کلومیٹر کے فاصلہ پر 20 روپے ، 5 سے 15 کلومیٹر فاصلہ پر 30 روپے جب کہ 15 سے زائد کلومیٹر کے سفر پر 40 روپے کرایہ مقرر کیا گیا ہے اوریہی کرایہ الگ پروجیکٹس کے تحت کراچی میں چلائی جانے والی دیگر بسوں پر بھی لاگو ہوگا، اس موقع پر وزیراعلی سندھ کے سوال پر وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ کرایہ کمیٹی کی تجویز پر مقرر کیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ نے پائیلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اسکے بعد اجلاس میں زرعی پالیسی کے ایجنڈے پر بحث کی گئی جوکہ زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز کے شعبوں پر محیط تھا۔ زرعی پالیسی کے اہم مقاصد میں () شعبہ زراعت کی ترقی میں 4 سے 5 فیصد کا اضافہ کرنا () دیہی علائقوں میں غربت کا خاتمہ () ایگرو-ایکولاجیکل ریسورسز بیس کو محفوظ کرنا تاکہ ماحولیات کو بہتر کیا جاسکے () ماحولیات کی تبدیلی کے مسائل کو مدنظر رکھ کر ماحول کو بہتر کرنا شامل ہیں جبکہ ترجیحات میں شعبہ زراعت میں قرضے دینا، زرعی مقاصد کے لیے زرعی زمین کی خرید، لیز و ٹرانسفر کے طریقہ کار کو آسان کرنا ، شعبہ زراعت سے منسوب لیگل سسٹم کو بہتر کرنا، منظورشدہ بیج، کھاد، جانوروں کا کھانا، ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کی قانون سازی کرنا ، نامیاتی فصلوں کی حوصلہ افزائی کرنا،شعبہ زراعت میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ داروں کے دروازے کھولنا ، اعلی قسم کی خوراک برآمد کرنا، شعبہ زراعت میں حکومت کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرنا اور شعبہ زراعت میں ریسرچ پر خصوصی توجہ دینا شامل ہیں۔

وزیر زراعت سہیل انور سیال نے مجوزہ پالیسی کو اہم قرار دیتے ہوئے سندھ کابینہ کو بتایا کہ زرعی پالیسی ورلڈ بینک کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے 35 ہزار 500 ٹریکٹرز محکمہ زراعت کے ذریعیکاشتکاروں کو دیئے اور تمام ٹریکٹرز کیلئے 2 ہزار لیزر اور لیولرز گزشہ برسوں میں کاشتکاروں کو دے چکے ہیں۔ سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ کی کپاس، شگرکین اور گندم دیگر صوبوں سے بہتر ہیں، سندھ میں اس وقت 18.1 ملین گائی/بھینسیں و دیگر دودھ دینے والے جانور اور 21 ملین بکریاں اور بھیڑیں (دنبی) ہیں۔

اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زراعت قومی معیشت میں 24 فیصد کی شراکت دار ہے، سال 2000 سے زرعی شعبہ کی ترقی 3 فیصد پر ٹھہری ہوئی ہے۔سندھ میں آبپاشی کا نظام بہت اہمیت کا حامل ہے، سندھ کے تین بیراجوں سے 14 کینال کو پانی مہیا ہوتا ہے جوکہ 117 برانچ کینالز کو پانی پہنچاتے ہیں اور وہ آگے 1400 تقسیم کاروں کے ذریعے 44 ہزار واٹرکورسز کو پانی پہنچاتے ہیں۔

کابینہ نے وزیر زراعت سہیل انور سیال اور سیکریٹری ساجد جمال ابڑو کی جانب سے جامع پالیسی بنانے پر مبارکباد دیتے ہوئے تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد نئی زراعت پالیسی منظور کرلی ہے۔ اسکے بعد اجلاس میں یوتھ پالیسی کے ایجنڈے پر بحث کیا گیا،سندھ یوتھ پالیسی کے اہم نکات میں نوجوانوں کے لیے یوتھ ڈیولپمنٹ کمیٹی کا قیام ، سندھ کے ہر ضلع میں یوتھ افیئرز کے ڈپارٹمنٹ کا قیام ، ملازمتوں کا ڈیٹا بیس قائم کرنے کے لیے سینٹرل انفارمیشن سسٹم کا قیام ، یوتھ وینچوئر کیپٹل فنڈ کا قیام ، یونیورسٹی سطح پر چھوٹے کاروبار کیلئے تربیتی پروگرامز ، یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹر کا قیام ، اسٹوڈنٹ یونین کو بہتر کرنا، نوجوانوں کے لیے آرٹیکن سپورٹ پروگرام شروع کرنا ، نوجوانوں کے لیے سیکیورٹی و سیفٹی پلان مرتب کرنا ، 10 فیصد نوجوان خواتین کے لیے ملازمتی کوٹہ مقرر کرنا اور لڑکے و لڑکیوں کے اسکاٹس کو متحرک کرنا شامل ہیں، جسکے بعد سندھ کابینہ نے یوتھ افیئرز کے صوبائی وزیر عابد بھیو اور سیکریٹری نیاز عباسی کی جانب سے جامع پالیسی دینے پر کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے یوتھ پالیسی بل کی منظوری دے دی۔

اسکے بعد کابینہ اجلاس میں سندھ اسپورٹس بورڈ آرڈیننس میں ترمیم پر بحث کی گئی جسکا قیام 1980 میں آرڈیننس کے ذریعے عمل میں آیا تھا۔ سندھ کابینہ کو وزیر کھیل محمد بخش مہر نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کئی سالوں سے بورڈ کے اجلاس ہی نہیں ہوئے ، بورڈ کا چیئرمین گورنر سندھ ہے لیکن اب تجویز رکھی گئی ہے کہ وزیراعلی سندھ اور انکی غیرموجودگی میں وزیر کھیل بورڈ کا چیئرمین ہوگا، بورڈ کی کمپوزیشن میں معمولی سی ترمیم بھی کئی گئی ہے،2012 کے بعد سندھ گیمز نہیں ہوپائے جس پر وزیراعلی سندھ نے تمام وزرا کو سندھ گیمز کے ایونٹ میں شریک ہونے کی ہدایت کی۔

سندھ کابینہ نے سندھ اسپورٹس بورڈ آرڈیننس کی ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے مجوزہ آرڈیننس سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ اسکے بعدشاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے کے ایجنڈے پر بحث کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی کا نام شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور ہوگا اور شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور ایکٹ 2018 بلایا جائے گا۔

سندھ کابینہ نے شیخ ایاز یونیورسٹی ایکٹ 2018 کی منظوری دے دی۔ اسکے بعداجلاس میں بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018 کے ایجنڈے پر بحث کی گئی جوکہ 271 کروڑ روپے کی لاگت سے سکھر میں قائم کی جارہی ہے ، اجلاس میں بتایا گیا کہ محترمہ پروین منشی کو بطور وائس چانسلر مقرر کردیا ہے تاکہ وہ یونیورسٹی کی کلاسز و دیگر انتظامات کرسکیں، بلڈنگ کی بانڈری وال بن رہی ہے اورآرٹس کانسل کے قریب یونیورسٹی کے لیے زمین ڈونیٹ بھی کی گئی ہے،ترقیاتی و تعمیراتی کام مسلسل جاری ہے اور یونیورسٹی صرف لڑکیوں کے لیے ہوگی۔

بریفنگ کے بعد سندھ کابینہ نے مسودے کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اسکے بعد اضافی آئٹم میں سندھ انڈسٹری رجسٹریشن ایکٹ - 2018 کی تشکیل پر سندھ کابینہ اجلاس میں تجویز زیر بحث لائی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ 2 محمود آباد سے تمام تجاوزات ہٹائی جائیں،پلانٹ کی 150 ایم جی ڈی گنجائش ہے جسکو بڑھا کر 500 ایم جی ڈی کیا جائے گا اورہر فیکٹری میں پری۔

ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی ہوگا۔ اسکے بعد سندھ کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم قمر 8 مئی 2018 کو رٹائر ہونے والے ہیں جن کی جگہ نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لیے کابینہ نے اشتہارات کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی ،کمیٹی کیسربراہ چیف سیکریٹری سندھ ہونگے اوردیگر ممبران میں چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری صحت، سیکریٹری سروسز اور وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری شامل ہونگے،کابینہ نے کمیٹی کو اختیارات دیے کہ وہ انٹرویو کے ذریعے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کو یقینی بنائیں۔

اسکے بعد ایک اور اضافی ایجنڈے سندھ لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈ اتھارٹی پر بھی بحث کیا گیا جس پر بتایا گیا کہ اتھارٹی کو بورڈ چلائے گا جسکا چیئرمین وزیر لائیو اسٹاک ہوگا،سندھ کابینہ نے لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کی منظوری دے دی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments