بلوچستان کا مالی سال2018-19کا بجٹ 8مئی کو پیش کیا جائے گا، جاری مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کا اجراء 27اپریل کو روک دیا جائے گا، آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست بنایا جائے گا، بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے اور تمام شعبوں میں عوامی مفادات کے اجتماعی منصوبوں کو ترجیح دینے کی پالیسی اپنائی جائیگی، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ

جمعہ اپریل 23:58

کوئٹہ۔ 20 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ اپریل ء)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مالی سال 2018-19ء کا صوبائی بجٹ 8مئی کو پیش کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جاری مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کا اجراء 27اپریل کو روک دیا جائے گا جبکہ تمام محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے لئے اپنے ترقیاتی منصوبے یکم مئی تک محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کو بھجوادیں۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی وترقیات نصیب اللہ بازئی اور سیکریٹری خزانہ قمر مسعود نے کابینہ کو رواں مالی سال کی پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں کی پیشرفت ، مالی صورتحال اور آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ کے خدوخال سے آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

کابینہ نے صوبے کے ترقیاتی اورمالی امور اور آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ کے حوالے سے تجاویز پر تفصیلی غوروخوض کرتے ہوئے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات اور محکمہ خزانہ کو کابینہ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کی ہدایت کی۔

کابینہ میں اس بات سے مکمل اتفاق پایا گیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست بنایا جائے گا جس میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے اور تمام شعبوں میں عوامی مفادات کے اجتماعی منصوبوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کو اپنایا جائے گا۔ صوبائی کابینہ نے صوبے کے گوداموں میں موجود گندم کو مقرر کردہ نرخوں پر اوپن مارکیٹ پالیسی کے تحت فروخت کرنے کی منظوری بھی دی۔

اس اقدام کا مقصد گوداموں میں موجود گندم کو خراب اور ضائع ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ عوام کو رمضان المبارک کے دوران سستے داموں گندم اور آٹے کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قلیل مدت میں عوام کو مختلف شعبوں میں ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی عوامی فلا ح وبہبود کے ایسے منصوبے شامل ہوں جن سے عوام کو تعلیم، صحت، آبنوشی، مواصلات اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر دستیاب ہوسکیں۔

ہم ایک فلاحی بجٹ دے کر جائیں گے جس میں انفرادی کے بجائے اجتماعی نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح حاصل ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مختلف اہم امور پر صوبائی کابینہ میں مکمل اتفاق رائے سے فیصلے کئے جارہے ہیں جو نہایت خوش آئند ہے اور حکومتی فیصلوں سے عوام کا حکومت اور اداروں پر اعتماد مضبوط ہوا ہے۔ اس اعتماد کو ٹھیس نہیں لگنے دی جائے گی اور ہم خلوص نیت کے ساتھ اپنی تمامتر صلاحیتیں مسائل کے حل کے لئے بروئے کار لاتے رہیں گے۔

Your Thoughts and Comments