ٹیکس سب نے ادا کرنا ہوتا ہے، عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں خارج

سپریم کورٹ کا اوپن یونیورسٹی اور نمل یونیورسٹی کو1995ء سے ٹیکس ادا کرنے کا حکم

ٹیکس سب نے ادا کرنا ہوتا ہے، عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں خارج
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جولائی2019ء) سپریم کورٹ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور نمل یونیورسٹی کی جانب سے ٹیکس ادائیگی سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظرثانی کیلئے دائردرخواستیں خارج کرتے ہوئے دونوں یونیوسٹیوں کو 1995ء سے ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیاہے اورواضح کیاہے کہ ٹیکس ادائیگی کیلئے نوٹیفیکشن جاری نہ کرنے سے ٹیکس دینے کی ذمہ داری ختم نہیںہوجاتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ باقی اداروں سے ٹیکس وصول اور مخص دو یونیورسٹیوں سے ٹیکس نہ لیا جائے،جمعرات کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اورجسٹس گلزار احمد پرمشتمل تین رکنی بنچ نے دونوں یونیورسٹیوں کی جانب سے ٹیکس ادائیگی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائردرخواستوں کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وکیل نے پیش ہوکر عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ ہمیں1995ء سی2000ء تک ٹیکس ادائیگی کیلئے کوئی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا گیا تاہم2001ء میںہمیں نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے 1995ء سے ٹیکس اداکرنے کی ہدایت کی گئی،جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ اگرآپ کو نوٹیفیکیشن نہیں دیا گیا تو کیا اس سے آپ کی ٹیکس اداکرنے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔

جبکہ جسٹس گلزار احمد نے فاضل وکیل سے کہا کہ2001ء کے نوٹیفیکیشن کو1995ء کے نوٹیفیکیشن پرفوقیت حاصل ہے کیونکہ یہ ٹیکس کا معاملہ ہے جوسب نے ادا کرنا ہوتاہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ باقیوں سے ٹیکس لیا جائے اور آپ سے نہ لیاجائے۔ عدالت کوعلامہ ا قبال اوپن یونیورسٹی کے وکیل نے مزید بتایا کہ 1991ء کے نوٹیفیکیشن کے مطابق تعلیمی اداروں کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایاکہ1991ء کے نوٹیفیکیشن کے تحت صرف سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل تھا تاہم1995ء میں جاری نوٹیفیکیشن کے ذریعے سرکاری اورنیم سرکاری اداروں پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا اور صرف فلاحی اداروں کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے سماعت کے دورا ن جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ نئے نوٹیفیکشن میں تھوڑی سی تبدیلی کے علاوہ اورکچھ نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے مزید کہاکہ اس کیس میںگزشتہ روز نمل یونیورسٹی کے وکیل نے التوا کیلئے درخواست بھیجوائی تھی حالانکہ نظر ثانی کی درخواست میں التوا نہیں دیا جا سکتا، دوسری جانب نظر ثانی کیلئے دائر دونوں درخواستیں میرٹ پر پوری نہیں اتر تیں، جس پرچیف جسٹس کاکہناتھاکہ اس مقدمے کی نوعیت مختلف ہے کیونکہ یہاں قانون کو ڈکلیئر کرنے کا معاملہ تھا، اورجہاں قانون ڈکلیئر کرنا ہو وہاں زائد المیعاد کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی، بعدازاںعدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے دونوں یونیورسٹی کی جانب سے نظرثانی کیلئے دائر درخواستیں خارج کر دیں اور حکم دیاکہ دونوں یونیورسٹیاں1995ء سے ہی ٹیکس ادا کریں گی۔

Your Thoughts and Comments