Achi Soch

اچھی سوچ

رفیق لاہور کے ایک محلے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔اُس محلے میں شاہد بھی اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا ۔یہ دونوں ایک ہی سکول اور ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے ۔دونوں اپنی کلاس میں اچھے نمبر حاصل کرتے تھے ۔

منگل اکتوبر

achi soch

اطہر احمد شیخ
رفیق لاہور کے ایک محلے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔اُس محلے میں شاہد بھی اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا ۔یہ دونوں ایک ہی سکول اور ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے ۔دونوں اپنی کلاس میں اچھے نمبر حاصل کرتے تھے ۔

شاہد کے والدین خاصے امیر تھے ۔اُسکے والدہ کا ایک بہت بڑا بزنس تھا جبکہ رفیق کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔اُسکے والد ایک دفتر میں کلرک تھے ،وہ بڑی مشکل سے رفیق کی فیس اداکرتے تھے ۔رفیق اور شاہد امتحان کے دنوں میں سخت محنت کرتے تھے اور دونوں کی خواہش ہوا کرتی تھی کہ وہ اول پوزیشن حاصل کریں ۔
شاہد مسلسل دوسال سے اول پوزیشن حاصل کر رہا تھا ۔اِس طرح رفیق کے دل میں شاہد کیلئے حسد کا مادہ پیدا ہو گیا۔وہ اب ہر وقت سوچوں میں گم رہتا تھا ،اُسکی بھوک پیاس بالکل ختم ہو چکی تھی ۔

(جاری ہے)

وہ چاہ رہا تھا کہ اول پوزیشن حاصل کر کے شاہد کو نیچا دکھائے ۔


ایک دن سب لڑکے کر کٹ کھیل رہے تھے ۔شاہد اِس سال بھی تمہیں اول پوزیشن حاصل کرنی چاہیے تا کہ تم ایک بڑا انعام حاصل کر سکو ،جیسے مسلسل تین سال تک اول آنے کی وجہ سے ملتا رہا ہے ۔رفیق کے ایک ہم جماعت احمد نے شاہد سے کہا۔”انشاء اللہ تعالیٰ اِس سال بھی اول ہی آؤں گا مگر کیا کروں ،میرا مقابلہ رفیق سے ہے تم تو جانتے ہی ہو میرا اور اُسکا مقابلہ اول پوزیشن حاصل کرنے کیلئے ہوتا ہے اور میں صرف دو یا تین نمبروں کے فرق سے اول پوزیشن حاصل کرتا ہوں ۔
شاہد نے جواب دیا۔”بے فکر ر ہو ،اِس سال میں ہر گز تمہیں اول پوزیشن حاصل نہیں کرنے دوں گا“؛رفیق نے حسد بھر سے لہجے سے کہا؛ ”انسان کی بڑائی بڑے بول سے نہیں ہوتی بلکہ اخلاق سے ہوتی ہے “؛شاہد بولا۔”یہ لیکچر کسی اور کو جا کر سناؤ“اور ہاں تم میرے منہ مت لگا کر و اور تمہیں میرا چیلنج ہے کہ اس سال میں اول پوزیشن لے کر دکھا ؤں گا بتاؤ چیلنج قبول ہے ؟“رفیق نے شاہد کی طرف دیکھ کر کہا جس سے اُسکا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

”ٹھیک ہے رفیق ! میں اِس سال بھی اول پوزیشن لے کر تمہارا غرور توڑوں گا۔ویسے یہ سن لو کہ حسد کرنے والا کبھی خوش نہیں رہتا“؛شاہد نے جواب دیا۔
کیا مطلب ؟میں تم سے حسد کرتا ہوں ؟تم میں کیا خوبی ہے جو میں تم سے حسد کروں گا؟رفیق غصے سے بولا۔
”میں تم سے زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا۔“شاہد کہتا ہو ا تیزی سے چلا گیا۔
رفیق اِس سال خوب دل لگا کر پڑھ رہا تھا وہ ہر حالت میں اول آنا چاہتا تھا ۔وہ اپنے والد کی حالت دیکھ کر بھی مہنگی چیزوں کی فرمائش کر تا رہتا تھا۔

ایک دن رفیق کے والد تھکے ہارے آفس سے آئے تو اُس نے اپنے والد سے سائیکل خرید نے کی فرمائش کی ۔اُسکے والد نے کہا؛”بیٹا ایک سائیکل جو دو سال پہلے خرید ی تھی وہ تمہارے پاس موجود ہے پھر دوسری سائیکل کیوں ؟”اونہہ وہ پرانی سائیکل مجھے اچھی نہیں لگتی جبکہ میرے دوستوں کے پاس نئی نئی سائیکلیں ہیں “مجھے شرم آتی ہے مجھے تو آپ نئی سائیکل لے کر دیں۔
رفیق نے منہ پھلا کر کہا؛رفیق اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔اِسی لئے اُسکے والد اُسے ناراض نہیں کر سکتے تھے ۔اُسکی ہر فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔
”اچھا بیٹا ہم اپنے بیٹے کو نئی سائیکل لے دیں گے اب خُوش ہو؟“
رفیق کے والد نے اُسکی طرف مسکراکر کہا۔

اگلے دن رات کے دوبج گئے لیکن رفیق کے والد گھر نہیں پہنچے۔رفیق اور اُسکی امی بہت پریشان ہو گئے ۔اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی ۔
دروازہ کھولا تو وہاں رفیق کے والد کے دوست کھڑے تھے ۔رفیق نے اُن سے پوچھا کہ ”کیا بات ہے ،آپ پریشان کیوں ہیں اور ابا جان اب تک گھر کیوں نہیں آئے ،کیونکہ آپ بھی تو اُن کے ساتھ کام کرتے ہیں “۔
اُنہوں نے جواب دیا کہ ”تمہارے ابا جان صبح سے کام کررہے تھے وہ دو پہر کا کھانا کھانے بھی نہیں گئے ۔میں نے اُنہیں مسلسل کام کرنے سے منع کیا تو اُنہوں نے جواب دیا؛“آج مجھے آرام نہیں کرنا،آج میں نے اپنے بیٹے کیلئے سائیکل خریدنی ہے “۔
آخر کام ختم کرکے وہ جانے کیلئے اُٹھے دو سڑھیوں سے اُتر رہے تھے کہ اُن کا پاؤں پھسل گیا،اِس طرح اُن کے سر پر چوٹ لگی۔ہم نے اُنہیں ہسپتال پہنچا دیاہے۔
”چاچا اب کیا ہو گا“۔رفیق کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔کیونکہ اُسکے والد کی یہ حالت اِسی کی وجہ سے ہوئی تھی ۔
بیٹا تم فکر نہ کر واب اُ ن کی حالت بہتر ہے “۔والد کے دوست نے رفیق کو دلاسہ دیا۔تھوڑی دیر میں رفیق اور اُسکی امی والد کے دوست کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئے ۔رفیق کے والد کی حالت خطرے سے باہر تھی لیکن وہ پریشان تھا کیونکہ اُسے اپنے والد کی زیادہ پریشانی نہیں تھی بلکہ اُس نے کل سکول کی فیس جمع کرانی تھی اور کل آخری تاریخ تھی ۔
اُسکی امی نے سکول کی فیس اُسے دی تھی لیکن وہ والد کیلئے دوائیاں لانے میں خرچ ہو گئے ۔
رفیق نے اپنے والد کے ایک دوست سے فیس کیلئے روپے اُدھا ر مانگے لیکن انہوں نے کہا کہ میں تو خود ایک غریب آدمی ہوں روزانہ جتنا کماتا ہوں وہ گھر میں ہی خرچ ہو جاتا ہے ۔
اب رفیق کو اپناقیمتی سال برباد ہو تا نظر آیا۔سکول کی فیس تین سو روپے تھی اور اُسکے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔اگلے دن وہ سکول نہیں گیا۔سارا دن کمرے میں بند روتا رہا ۔شام کو وہ گھر سے باہر نکلا تو سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب سے ملاقات ہو گئی۔
رفیق نے اُنہیں سلام کیا۔
اُنہوں نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا؛”رفیق تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے تم آج سکول نہیں آئے“۔سر میرے پاس سکول کی فیس نہیں تھی،اِسی شرمندگی میں سکول نہیں آیا“۔رفیق نے سر جھکا کر جواب دیا؛”لیکن تمہاری فیس تو کسی نے جمع کرا دی ہے“۔
”کیا مطلب سر کسی نے میری فیس جمع کر دای؟“رفیق نے حیرت سے پوچھا۔
”بھئی جس نے فیس جمع کرائی ہے اُس نے اپنا نام بتانے سے منع کر دیا ہے “یہ کہہ کر ہیڈ ماسٹرصاحب چلے گئے ۔اتفاق سے کچھ فاصلے پر شاہد اور احمد آپس میں باتیں کر رہے تھے اُنہوں نے اُسے نہیں دیکھا لیکن اُ ن کی باتوں کی آواز اُسکے کانوں تک پہنچ رہی تھی ۔
”شاہد تم نے اُس مغرور لڑکے کی فیس کیوں جمع کرائی ہے ،تمہارے لئے تو اُسکو سامنے سے ہٹانے کا بہت اچھا موقع تھا“۔احمد شاہد سے کہہ رہا تھا ۔یہ سُن کر رفیق پر سکتہ طاری ہو گیا۔
”احمد میں یہ مانتا ہوں کہ رفیق تعلیم کے میدان میں میرا حریف ہے اور میرا اُس سے مقابلہ بھی چل رہا ہے لیکن مصیبت کے وقت میں اُسکی مدد کرنا بھی تو ضروری تھا۔
پھر وہ میرا پڑوسی بھی ہے بھلا میں اُسکا ایک سال کیسے ضائع کر سکتا تھا “شاہد بولا۔یہ سُن کر رفیق دل ہی دل میں بہت شرمند ہ ہوا وہ سوچنے لگاکہ وہ ایک امیر باپ کا بیٹا ہو کر مغرور نہیں ہے اور اُسکے دل میں ہمدردی کا جذبہ ہے اور میں ایک غریب باپ کا بیٹا ہو کر اتنا مغرور ہوں ۔اُس نے دل میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور شرمندگی کا احساس لئے ہوئے گھر روانہ ہو گیا۔

Your Thoughts and Comments