Do Paisay Ki Barket - Article No. 1196

دو پیسے کی برکت

مغل بادشاہ اور نگ زیب عالمگیر کے پاس ایک ضرورت مند آیا ۔کہنے لگا :”اے شہنشاہ عالم گیر ! میں نہایت غریب انسان ہوں ۔مجھے اپنی دوجواں سال بیٹیوں کی شادی کرنی ہے ۔آپ میری مدد فرمائیں ۔“

منگل 2 اکتوبر 2018

do paisay ki barket

شہید حکیم محمد سعید
مغل بادشاہ اور نگ زیب عالمگیر کے پاس ایک ضرورت مند آیا ۔کہنے لگا :”اے شہنشاہ عالم گیر ! میں نہایت غریب انسان ہوں ۔مجھے اپنی دوجواں سال بیٹیوں کی شادی کرنی ہے ۔آپ میری مدد فرمائیں ۔

“نونہالو ! شہنشاہ ہند نے جواب دیا :”اچھا تم کل آنا ۔ہم سے جو ہو سکے گا تمھاری مدد کریں گے۔“ ضرورت مند چلا گیا ۔اسی شب شہنشاہ اور نگ زیب نے لباس بدلا ،بھیس بدلا اور نکل کھڑے ہوئے ۔راستے میں دیکھا کہ ایک مسافر سامان لیے کھڑا ہے اور کسی محنت کش کے انتظار میں ہے ۔
شہنشاہ ہند ایک محنت کش کے بھیس میں تھے ۔انھوں نے آگے بڑھ کر مسافر کا سامان اپنے سر اور پیٹھ پر لاد لیا اور جہاں مسافر نے کہا وہاں پہنچا دیا ۔ مزدوری دو پیسے ملی ۔اور نگ زیب عالم گیر محل آئے ۔

(جاری ہے)

نہایت اطمینان سے سو گئے ۔صبح ہوئی حاجت مند پہنچ گیا ۔

شہنشاہ ہند نے فرمایا :”یہ میری محنت کی کمائی ہے۔قطعی حلال ہے ۔دو پیسے یہ ہیں ۔یہ لے جاؤ ۔

اللہ تمھارامدد گار ہو ۔“نو نہا لو ! وہ حاجت مند تو بڑا حیران پریشان ہوا۔دو پیسے ! ان دوپیسوں سے دو بیٹیوں کی شادیاں کیسے کروں گا ۔

مایوس ہو کر چلا گیا ۔نونہالا ! اب سنو پھر کیا ہوا ۔وہ حاجت مند اپنے علاقے میں جا رہا تھا ۔راستے میں دیکھا کہ اناربِک رہے ہیں ۔اس نے دوپیسے کے انار لے لیے۔اس کے اپنے علاقے میں انار نہیں ہوتے تھے ۔اب وہ سفر کرتے کرتے اپنے علاقے میں پہنچ گیا ۔
دور ایک علاقے میں ایک رئیس رہتا تھا ۔اس کی بیٹی بیمار تھی ۔سارے علاج نا کام ہوئے ۔آخر ایک حکیم صاحب نے فرمایا :”اس مریضہ کو اب انار کے رس کی ضرورت ہے ۔اس سے آرام آئے گا ۔“نونہالو ! نار تو وہاں تھا نہیں ۔رےئس نے منادی کرائی جو انار جلد فراہم کرے گا اسے انعام واکرام دیا جائے گا ۔
یہ بات اس حاجت مند تک پہنچی جس نے شہنشاہ اور نگ ز یب کی حلال کمائی دو پیسے کے انار خریدے تھے۔ وہ انار فوراََ ہاتھ میں حفاظت سے لے کر رئیس کے گھر پہنچ گیا ۔

انار پیش کردیے ۔جناب حکیم صاحب نے رس نکالا اور رئیس زادی کو پلا دیا ۔

اللہ کی شان انار کا رس تریاق ثابت ہوا ۔وہ اچھی ہو گئی ۔رئیس نے انار لانے والے سے کہا :”بولو کیا مانگتے ہو ؟حاجت مند نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کا ذکر کیا ۔رئیس نے دونوں کی شادی کرادی اور انار والے کو بہت سی رقم دے دی ۔وہ تو مالا مال ہو گیا ! نو نہالو ! تم نے غور کیا! دو پیسوں میں کیسی برکت ہوئی ! نونہالو ! یا د رکھنا ،یہ برکت حلال کی کمائی کے دوپیسوں کی ہے ۔
شہنشاہ نے مسافر کا سامان ڈھو کر دو پیسے کمائے تھے ۔محنت کی تھی ۔حلال کمائی تھی ۔اسی لیے ایسی برکت ہوئی ۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Hathi Aur Bandar Main Ho Gayi Larai

ہاتھی اور بندر میں ہوگئی لڑائی

Hathi Aur Bandar Main Ho Gayi Larai

Jeet

جیت

Jeet

Batakh Aur Murghi Ke Choze

بطخ اورمرغی کے چوزے

Batakh Aur Murghi Ke Choze

Adat Ya Fitrat - Pehla Hissa

عادت یا فطرت (پہلا حصہ)

Adat Ya Fitrat - Pehla Hissa

Shehad Ki Aik Boond - Aakhri Hissa

شہد کی ایک بوند (آخری حصہ)

Shehad Ki Aik Boond - Aakhri Hissa

دو بھائی

Do Bhai

Jhoote Bhikari

جھوٹے بھکاری

Jhoote Bhikari

Mount Washington Ki Chotti

ماوٴنٹ واشنگٹن کی چوٹی

Mount Washington Ki Chotti

Aam Ka Peer Kaise Girra

آم کا پیڑ کیسے گرا؟

Aam Ka Peer Kaise Girra

Khoodari

خوداری

Khoodari

Hamare Ammi Aur Abbu

ہمارے ابو اور امی

Hamare Ammi Aur Abbu

2 Saheliyan Jo Rasta Bhool Gayi

دو سہیلیاں جو راستہ بھول گئی

2 Saheliyan Jo Rasta Bhool Gayi

Your Thoughts and Comments