behan ki mehnat

Behan Ki Mehnat

بہن کی محنت

امجد کی عمر ابھی بہت کم تھی کہ اُس کے ابو کا انتقال ہو گیا۔رانی اُس کی چھوٹی بہن تھی۔امجد کی ماں

روبینہ ناز،کراچی
امجد کی عمر ابھی بہت کم تھی کہ اُس کے ابو کا انتقال ہو گیا۔رانی اُس کی چھوٹی بہن تھی۔امجد کی ماں دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرکے وہ اپنا اور بچوں کاپیٹ پالتی تھی۔اُس کی خواہش تھی کہ امجد ایک بڑا افسر بنے،اس لئے وہ اُس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتی تھی۔


آج امجد صبح سے ہی بہت اُداس تھا ،وہ جانتا تھا کہ آج رانی کی سالگرہ ہے ۔ماں برتن دھورہی تھی کہ ننھی رانی بھاگتی ہوئی آئی اور کہا؛”امی آج میری سالگرہ ہے ،مجھے مٹھائی اور کھلونے چاہئے۔ماں نے پہلے تو اُسے سمجھایا کہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہم یہ فضول خرچی کریں مگر رانی نہ مانی اور رونے لگی تو ماں نے اُسے ایک تھپڑ لگاتے ہوئے کہا؛”میں دوسروں کے گھروں میں کام کرکے تمہیں پڑھا رہی ہوں ،مزید پیسے کہاں سے لاؤں “یہ کہہ کر وہ رانی کو گلے لگا کر زار وقطار رونے لگی۔

(جاری ہے)


امجد یہ سب دیکھ اور سُن رہا تھا،وہ چپ چاپ اُٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا۔اچانک اُس نے ایک فیصلہ کیا وہ سیدھا مزدوروں کی بستی میں پہنچا اور ٹھیکیدار سے کہا”صاحب! جی کوئی کام ہے تو مجھے اُس پر لگادیں ۔“
ٹھیکیدار بہت رحم دل تھا،اُس نے کہا؛”بیٹا تم تو ابھی بہت چھوٹے ہو ،اِس سے پہلے کہ وہ اپنی بات پوری کرتا ،امجد بول اٹھا؛”سر آپ کی مہربانی ہو گی،مجھے کام کی سخت ضرورت ہے۔

ٹھیکیدار نے اُس کی بات سُنی اور مان لی پھر امجد سارا دن ایک کمرے میں سفیدی کرتا رہا۔شام کو وہ پورے دو سو روپے لے کر بازار گیا۔بہن کیلئے مٹھائی اور فراک خریدی اور خوشی خوشی گھر میں داخل ہوا اور رانی کو آوازیں دینے لگا۔

ماں نے وہ چیزیں دیکھیں تو امجد کو ایک زور دار تھپڑمارا اور بولی؛”تم نے یہ چیزیں کہاں سے لیں ؟کیا بھیک مانگی تھی؟“
امجد نے اپنے سفیدی سے بھرے ہاتھ ماں کے سامنے کردےئے اور کہا؛”ماں جی! میں نے بھیک نہیں مانگی بلکہ مزدوری کی تھی “یہ سُن کر ماں نے امجد کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگائے اور بولی۔
”بیٹا مجھے تم پر فخر ہے اب مجھے اُمید ہو گئی ہے کہ تُم بڑے آدمی بنو گے اور دنیا میں تمہیں کوئی شکست نہیں دے سکے گا۔“

Your Thoughts and Comments