Akhlaq Kay Karishmay

Akhlaq Kay Karishmay

اخلاق کے کرشمے

خوش اخلاقی اور حکمت عملی سے انسان کئی مشکل کام کروا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ واقعات۔۔۔

حبیب اشرف صبوحی:
خوش اخلاقی اور حکمت عملی سے انسان کئی مشکل کام کروا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ واقعات میں سے دو پیش ہیں:
میرے ایک عزیز کراچی سے لاہور آئے اور کچھ عرصے یہاں قیام کیا۔ وہ روالپنڈی جانا چاہتے تھے۔
ان کی نشست میں نے کراچی سے آنے والی ریل میں مخصوص کرادی۔ جب ہم مقررہ وقت راولپنڈی جانے کے لیے اپنی نشستوں پر پہنچے تودیکھا کہ وہاں ایک بزرگ خاتون بچوں سمیت بیٹھی ہیں۔
جب ہم نے بتایاکہ یہ نشستیں ہماری ہیں تووہ لڑنے پہ اتر آئیں اور کہنے لگیں: ہم توکراچی سے راولپنڈی تک کے لیے بک کروا آئے ہیں۔
ہم خالی نہیں کریں گے۔
میرے عزیز بزرگ خاتون کی باتیں بڑے تحمل اور صبر سے سنیں اور کہنے لگے: اماں جان! آپ بیٹھی رہیں آپ کے بچے بھی یہیں بیٹھیں۔

(جاری ہے)

ان اتناوقت نہیں کہ ٹکٹ چیکرسے یہ فیصلہ کروائیں کہ یہ نشستیں کس کی ہیں؟ ہم فرش پربیٹھ کرگزارا کرلیں گے۔


پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوکرکہنے لگے: دیکھو، ان کی شکل ہماری والدہ سے کتنی ملتی ہے۔ میرا سفر اچھا گزرے گا۔
انھوں نے اپنے بچوں کے لیے جوبسکٹ اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں خریدی تھیں، فوراََ ہی بزرگ خاتون اور ان کے بچوں کوپیش کردیں۔
کچھ دیر بعد بزرگ خاتون نے خود ہی ان کی نشستیں خالی کردیں اور کہا: تم نے چھوٹے ہوتے ہوئے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا۔میں تمھاری تعلیم وتربیت کی قائل ہوگئی ہوں۔
راولپنڈی پہنچ کرمیرے عزیز بتایاکہ وہ میرے رویے سے اتنی متاثر ہوئیں کہ جب ہم جداہونے لگے تو کہنے لگیں: راولپنڈی میرے گھر ضرور آنا۔
میں تم سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہوں۔
یہ سب اچھے اخلاق اور اچھی حکمت عملی کانتیجہ تھا۔ ورنہ کوئی اور ہوتا توشاید وہ سارے راستے لڑتے ہوئے جاتے۔
اسی طرح میں بذریعہ ریل ایک روز راولپنڈی سے لاہور آرہاتھا۔ ریل میں بہت ہجوم تھا۔
کافی لوگ کھڑے تھے۔ میرے سامنے کی بڑی نشست پردو اشخاص بیٹھے تھے۔ ریل چلے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ایک ضعیف آدمی بڑی مشکل سے چلتا وہاںآ یاں اور سامنے بیٹھے دونوں اشخاص سے درخواست کی: مجھے بیٹھنے کی تھوڑی سی جگہ دے دیں۔
انھوں نے ادھراُدھر کھسک کراسے تھوڑی سی جگہ دے دی۔
وہ ضعیف آدمی شکریہ ادا کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ان دو میں سے ایک شخص کسی کام سے گیا۔ راستے میں اسے کھڑے مسافروں میں کوئی رشتے دارمل گیا۔ وہ اسے ساتھ لے آیا اور ضعیف آدمی سے کہنے لگا: اب نشست چھوڑدو۔ میرے یہ عزیز کافی دیر سے کھڑے ہیں۔

ضعیف آدمی نے نشست خالی کردی اور رنجیدہ شکل بناتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔ چند لمحے بعد ٹکٹ چیکرآیا۔ اس نے سب کے ٹکٹ دیکھے بھالے۔ جب وہ ضعیف آدمی کے پاس پہنچا اور اس کاٹکٹ دیکھا، توحیرانی سے بولا: باباجی! آپ کی نشست ہے جس پر دو لوگ بیٹھے ہیں اور آپ کھڑے ہیں؟
ٹکٹ چیکرنے ان دونوں آدمیوں کواٹھا دیاجو بابا جی کی نشست پر ” قبضہ گروپ“ بنے براجمان تھے اور وہ مستحق شخص جس کی نشست تھی، کھڑا تھا۔
یہ ضعیف آدمی کی اعلا ظرفی تھی کہ اس نے ان لوگوں کونہیں بتایا کہ نشست اس کی ہے اور وہ پریشانی اور تکلیف میں کھڑا ہے۔ میں نے ایسا اعلا ظرف شخص کبھی نہیں دیکھا۔ یہ کردار بھی میں نہیں بھول سکتا۔

Your Thoughts and Comments