Jhooti izzat

Jhooti Izzat

جھوٹی عزت

کامران کے والد ناصر صاحب ایک سرکاری محکمے میں درمیانے درجے کے ملازم تھے۔ان کا اکلوتا بیٹا کامران زیادہ لاڈپیار کی وجہ سے بہت ضدی ہو گیا تھا۔

انوار آس محمد
کامران کے والد ناصر صاحب ایک سرکاری محکمے میں درمیانے درجے کے ملازم تھے۔ان کا اکلوتا بیٹا کامران زیادہ لاڈپیار کی وجہ سے بہت ضدی ہو گیا تھا۔میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد اب وہ ضد کررہا تھا کہ اسے کار چاہیے۔

”بیٹا!ابھی تم چھوٹے ہو،جب بڑے ہو جاؤ گے تو کاردلادوں گا۔“ناصر صاحب نے اسے سمجھایا۔
کامران ضد کرنے لگا:”ابو! آپ کی نظر میں بچہ ہوں۔ویسے میں کافی بڑا ہو گیا ہوں اور اب مجھے کار چاہیے،ورنہ میں کالج نہیں جاؤں گا۔
میرے بہت سے دوست اپنی گاڑی میں آتے ہیں۔“
ناصر صاحب نے سمجھایا:”لیکن ابھی تو تمھارا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ہے ،اس لیے ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں بن سکتا۔“
امی نے کہا:”تمھارے دوست تو ڈرائیور کے ساتھ آتے ہیں ،دیکھا ہے میں نے۔

(جاری ہے)


”افوہ․․․․․․․امی!کون ساکالج دور ہے ،جو ٹریفک پولیس پکڑے گی۔ویسے بھی کاروالوں کی اتنی عزت ہوتی ہے کہ انھیں کوئی نہیں روکتا۔“کامران نے اونچی آواز سے کہا۔
”بیٹا!دولت سے جو عزت ملتی ہے،وہ جھوٹی ہوتی ہے ۔
اصل عزت حسن اخلاق ،دوسروں کی خدمت اور تعلیم کی وجہ سے ملتی ہے ۔“ناصر صاحب نے دھیمے لہجے میں سمجھایا۔
لیکن بہت سمجھانے کے بعد بھی کامران نہیں مانا۔امی اور ابو دونوں خاموش ہو گئے ۔کامران اپنے کمرے میں چلا گیا۔بس پھر کیا تھا،اس نے کھانا پینا چھوڑ کر اپنے والدین کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔
کالج بھی نہیں جارہا تھا۔اس کو بس ایک ہی دُھن سوارتھی کہ کار خریدلے۔
آخر مجبور ہو کر ناصر صاحب نے ایک چھوٹی سی پرانے ماڈل کی کارلے لی،لیکن طے یہ پایا کہ کامران خود کار نہیں چلائے گا،بلکہ ناصر صاحب اس کو کالج چھوڑتے ہوئے اپنے دفتر جایا کریں گے اور واپس وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ آجایا کرے گا،کیوں کہ دفتر دور ہونے کی وجہ سے ناصر صاحب اسے دوپہر میں گھر نہیں پہنچا سکتے تھے۔

کا مران تو خوشی سے پاگل ہوا جارہا تھا۔کار آنے کے بعد سے وہ خود کو بہت ہی عزت والا،امیر انسان سمجھ رہا تھا۔جب گھر سے نکلتا تو گردن اونچی کرکے چلتا تھا۔
کچھ دن اسی طرح گزرے ،پھر کا مران کا دل چاہا کہ وہ خود بھی ڈرائیونگ سیکھے۔

”ابو!مجھے بھی ڈرائیونگ سیکھنی ہے۔“ایک دن کا مران نے خواہش کا اظہار کیا۔
ناصر صاحب نے کہا:”ٹھیک ہے ،میں تم کو ڈرائیونگ سکھادوں گا ،لیکن تم گاڑی اس وقت چلاؤ گے،جب تمھارا شناختی کارڈ اور لائسنس بن جائے گا۔

”جی ٹھیک ہے ۔“کامران نے مسکراتے ہوئے ہامی بھرلی۔
اب کامران نے ڈرائیونگ سیکھنی شروع کر دی ۔ایک دن ناصر صاحب اپنے دوست کے ساتھ ان کی گاڑی میں دفتر چلے گئے تھے اور کار گھر پر ہی تھی ۔کامران کار کی چابی لے کر گھر سے نکل گیا۔
امی نے بہت روکا ،مگر وہ نہ مانا اور کاراسٹارٹ کرکے چلانے لگا۔اسے تھوڑی بہت ڈرائیونگ آگئی تھی،مگر ابھی کچھ کسر باقی تھی۔اناڑیوں کی طرح وہ کار چلاتاہوا گلی سے باہر نکلا۔وہ بہت خوش تھا۔ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اسے ٹریفک پولیس کا ایک افسر موٹر سائیکل پر آتا دکھائی دیا۔
افسرنے کامران کو گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔اب تو کامران ڈر گیا ۔بجائے کا ر روکنے کے اس نے کار کی رفتار مزید بڑھا دی۔اناڑی ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ کاربُری طرح بے قابو ہو کر نزدیکی درخت سے ٹکڑا گئی۔کار آگے سے پچک گئی۔کامران کا سراسٹیرنگ سے ٹکرایا اورخون بہ نکلا۔
اتنی دیر میں پولیس افسر بھی وہاں پہنچ گیا۔اس نے ڈانٹ کر کامران کو کار سے باہر نکالا۔لوگ بھی جمع ہونا شروع ہوگئے۔
”گاڑی کے کاغذات اور اپنا لائسنس دکھاؤ۔“پولیس افسر نے کہا۔
”آپ مجھ سے کس طرح بات کررہے ہیں؟میں کار کامالک ہوں،کوئی گیا گزرا غریب نہیں۔
“کامران نے رومال سے خون صاف کرتے ہوئے کہا۔
”ہم سے بد تمیزی ،ابھی نکالتا ہوں تمھاری اَکڑ۔پُرانی کا ر چلانے والا،خود کو امیر سمجھتا ہے ،قانون بھی توڑتا ہے اور بد تمیزی بھی کرتا ہے ۔“پولیس افسر طیش میں آگیا۔
کامران اور پولیس افسر کی بات سن کر لوگ ہنس پڑے۔کا مران کو اپنی بے عزتی محسوس ہوئی۔اس کی خوش فہمی دور ہوگئی کہ کار والوں کی عزت ہوتی ہے ۔شرمندگی سے اس کا سرجھک گیا۔
”ارے ،بہت بد تمیز لڑکا ہے ۔“ لوگوں میں سے کسی نے کہا۔

”خود کو پتا نہیں کیا سمجھ رہا ہے۔“دوسری آواز آئی۔
”اگر کسی کو ٹکر ماردیتا تو کیا ہوتا ،وہ اچھا ہوا کہ درخت ہی سے ٹکرایا۔“
غرض جتنے منھ اتنی باتیں ۔کسی کو بھی اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس کے سر سے خون بہ رہا ہے۔
کا مران کو اپنے امی ابویاد آگئے ،جو اس کی معمولی چوٹ سے بھی پریشان ہو جاتے تھے ۔ا ب اسے اپنی غلط سوچ پر افسوس ہوا۔
اتنی دیر میں ناصر صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔کا مران کی امی انھیں فون کر چکی تھیں کہ کا مران کار لے کر جا چکا ہے ۔
وہ پریشانی میں دفتر سے چھٹی لے کر آئے تھے ۔پولیس افسر نے ناصر صاحب کو جرمانہ بینک میں جمع کروانے کو کہا۔پھر وہ لوگ گھر آگئے۔کار ایک مکینک کو دے دی گئی۔کامران کی امی بہت پریشان ہوگئی تھیں۔
ناصر صاحب غصے میں تھے۔انھوں نے کامران کو ڈانٹا بھی اور سمجھایا بھی۔آج کا مران کو رونا آگیا اور
اس نے اپنے والدین سے معافی مانگی اور تہیہ کیا کہ اب جیسا والدین کہیں گے،ویسا ہی کرے گا۔

Your Thoughts and Comments