Birbal Ki Danishmandi - Article No. 861

بیربل کی دانشمندی

بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے

پیر نومبر

Birbal Ki Danishmandi
خان مظفر علی:
علی اکبر بادشاہ کے نورتنوں میں سے ایک راجہ بیربل کی ذہانت ، حاضر جوابی ، کی کہانیاں اور لطیفے بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔
روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔ حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاوٴ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔
حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔

(جاری ہے)

اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن کر آگے بڑھ گئے۔ اکبر نے بیربل سے فخریہ لہجے میں کہا۔

بیربل دیکھا تم نے ہماری سلطنت میں رعایا کتنی خوش ہے؟ بیربل نے عرض کیا بیشک جہاں پناہ آپ کا اقبال بلند ہے۔ چند روز بعد پھر ایک رات دونوں کا گزر اسی مقام سے ہوا۔ اکبر نے حجام سے پوچھ لیا۔ کیسے ہو بھائی؟ حجام نے چھوٹتے ہی کہا۔
اجی حال کیا پوچھتے ہو ، ہر طرف تباہی بربادی ہے۔ اس اکبر بادشاہ کی حکومت میں ہر آدمی دکھی ہے۔ ستیاناس ہو ، اس منحوس بادشاہ کا۔ اکبر حیران رہ گیا۔ کہ یہی آدمی کچھ دن پہلے بادشاہ کی اتنی تعریف کر رہا تھا۔ اور اب ایسا کیا ہو گیا ؟۔
جہاں تک اس کی معلومات کا سوال تھا۔ عوام کی بد حالی اور پریشانی کی اطلاع اسے نہیں تھی۔ اکبر نے حجام سے پوچھنا چاہا۔ لوگوں کی تباہی اور بربادی۔ کی وجی کیا ہوئی۔ حجام کوئی وجہ بتائے بغیر حکومت کو برا بھلا کہتا رہا۔ اکبر اس کی بات سے پریشان ہو گیا۔
الگ جا کر بادشاہ بے بیربل سے پوچھا “آخر اس شخص نے یہ سب کیوں کہا”۔ بیربل نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور بادشاہ سے کہا۔ اس میں 10 اشرفیاں ہیں دراصل میں نے 2 دن پہلے اس کی جھونپڑی سے چوری کروا لی تھی۔ جب تک اس کی جھونپڑی میں مال تھا۔
اسے بادشاہ حکومت سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اور اپنی طرح وہ سب کو خوش اور سکھی سمجھ رہا تھا۔ اب وہ اپنی دولت لٹ جانے سے غمگین ہے ساری دنیا اسے تباہی اور بربادی میں مبتلا نظر آتی ہے۔ جہاں پناہ ، اس واقعے سے آپ کو یہ گوش گزار کرنا چاہ رہا تھا کہ ایک فرد اپنی خوشحالی کے تناظر میں دوسروں کو خوش دیکھتا ہے۔ لیکن بادشاہوں اور حکمرانوں کو رعایا کا دکھ درد سمجھنے کے لئے اپنی ذات سے باہر نکل کر دور تک دیکھنا اور صورتحال کو سمجھنا چاہئے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Kitabain Hamari Dost

کتابیں ہماری دوست

Kitabain Hamari Dost

Aasteen Ka Saanp Banna

آستین کا سانپ بننا

Aasteen Ka Saanp Banna

Amish - Saadgi Sachai Or Qadeem Rewayatoon Se Jura Hua Haseen Qabila

آمِش سادگی سچائی اور قدیم روایتوں سے جڑا ہوا حسین قبیلہ

Amish - Saadgi Sachai Or Qadeem Rewayatoon Se Jura Hua Haseen Qabila

Pinki Roomi Or Ramzan

پنکی رومی اور رمضان

Pinki Roomi Or Ramzan

Dosti Ka Phul

دوستی کا پھل

Dosti Ka Phul

Bilaunwan Inaami Kahani

بلاعنوان انعامی کہانی

Bilaunwan Inaami Kahani

Atana Gadha

سیانا گدھا

Atana Gadha

Insaan Dost

انسان دوست

Insaan Dost

Saadi Ne Chirya Gher Dekha

سعدی نے چڑیا گھر دیکھا

Saadi Ne Chirya Gher Dekha

Parda Poshi

پردہ پوشی

Parda Poshi

EID Ul Adha

عید الاضحی

EID Ul Adha

Ju Hua Acha Hua

جو ہوا اچھا ہوا

Ju Hua Acha Hua

Your Thoughts and Comments