Dada Ke Khait Mein

دادا کے کھیت میں

عروہ اورموسیٰ کو اپنے دادا ابو کے کھیتوں میں جانا ہمیشہ سے ہی بہت پسند تھا،وہ جب بھی اپنے دادا ابو کے پاس جاتے تو

منگل ستمبر

dada ke khait mein

احمد عدنان طارق
عروہ اورموسیٰ کو اپنے دادا ابو کے کھیتوں میں جانا ہمیشہ سے ہی بہت پسند تھا،وہ جب بھی اپنے دادا ابو کے پاس جاتے تو کھیتوں میں اُنہیں ننھے منے کتے کے پلے اور بلیوں کے بچے مل جاتے ،جنہیں وہ اپنا دوست بنا لیتے اور اُن سے خوب کھیلتے ۔

دادا ابو کئی مرتبہ انہیں اپنے ٹریکٹر پر ساتھ بٹھا لیتے اور گھر کے کام کاج میں ہمیشہ دادی اماں کی مدد کرتے ۔کھیتوں میں اُن کی پسندیدہ ترین چیز سنہری رنگ کا بھو سے کا ڈھیرتھا جس میں بہت سی مٹی بھی ہوتی تھی ۔کھیلنے اور چھلانگیں لگانے کیلئے سب سے اچھی جگہ اُنہیں یہ بھو سے کاڈھیر ہی لگتی تھی۔
بھو سے کی خوشبو بھی اُ نہیں بہت اچھی لگتی تھی۔وہ بہت سا بھو سا اکٹھا کرکے اُس سے خیالی قلعے بنا لیتے تھے اور پھر شہزادہ شہزادہ والا کھیل کھیلتے رہتے ۔

(جاری ہے)

وہاں اُنہیں شورمچانے کی بھی مکمل آزادی تھی کیونکہ وہاں اُنہیں شور مچانے سے منع کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔

وہ بھو سے میں خیالی ہل بھی چلا سکتے تھے،آسانی سے بھوسے کو بچھاکر اپناخیالی کھیت بنا سکتے تھے یا پھر وہ بھوسے کے ڈھیر کو کھڑا کر لیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ پہاڑ ہے اور اِسکے نیچے سے اُنہیں ایک سرنگ کھود کر پہاڑ کی دوسری طرف جانا ہے ۔

ایک دن دونوں ننھے بہن بھائی یہی سرنگ والا کھیل کھیل رہے تھے ،موسیٰ بولا ؛”مجھے معلوم نہیں جب میں ساری سرنگ سے گزروں گا تو پہاڑ کی دوسری طرف موسم کیسا ہو گا ؟شاید بارش نہ ہو رہی ہو؟“پھر دونوں بہن بھائی رینگتے ہوئے جیسے ہی بھو سے میں بنی ہوئی سرنگ کے پارکھلی جگہ پر پہنچے تو پورے بھو سے کا ڈھیر اُن کے سر پر آگرا ۔
عروہ اور موسیٰ اب اپنے سروں سے بھوسا بھی ہٹا رہے تھے اور عروہ ہنس کر بھائی سے کہہ رہی تھی؛“ارے! یہاں بارش قطرے گرنے والی نہیں ہو رہی بلکہ یہاں تو پورا بارش کا دریا ہمارے سر پر آگرا ہے ۔یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنی سرنگ بنانے لگے۔

Your Thoughts and Comments