Dost Wo Jo Museebat Main Kaam Aye - Article No. 994

دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے

کسی جنگل میں ایک ہاتھی رہتا تھا ۔ اس کا دوست کوئی نہیں تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی جانور کو اپنا دوست بنائے جس کے ساتھ وقت گزار سکے ۔ یہ سوچ کرہاتھی کسی جانور کی تلاش میں نکلا ۔ اسے ایک درخت پر بندر نظر آیا۔ ہاتھی نے بندر سے پوچھا ” بندر بھیا ! کی اتم میرے دوست بنوگے۔

ہفتہ 15 اپریل 2017

Dost Wo Jo Museebat Main Kaam Aye
روبینہ ناز :
کسی جنگل میں ایک ہاتھی رہتا تھا ۔ اس کا دوست کوئی نہیں تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی جانور کو اپنا دوست بنائے جس کے ساتھ وقت گزار سکے ۔ یہ سوچ کرہاتھی کسی جانور کی تلاش میں نکلا ۔ اسے ایک درخت پر بندر نظر آیا۔
ہاتھی نے بندر سے پوچھا ” بندر بھیا ! کی اتم میرے دوست بنوگے ۔
بندر بولا : میاں ہاتھی ! تم اتنے بڑے ہواور میں ایک چھوٹا سا جانور ہوں ۔ میں درخت پر رہتا ہوں اور رم زمین پر ۔ تم میری طرح درخت پر نہیں چڑھ سکتے ۔ میری اور تمہاری دوستی کس طرح ہوسکتی ہے ۔
بندر کی بات سن کا ہاتھی اداس دل کے ساتھ وہاں سے چل دیا ۔ وہ تھوڑی دیر ہ پہنچا تھا کہ اسے ایک خرگوش نظرآیا ہاتھی نے خرگوش سے کہا ، بھیا میں چاہتا ہوں کہ تم میرے اچھے دوست بن جاؤ ۔

(جاری ہے)


خرگوش نے ہنس کر کہا” ہاتھی صاحب ! ذرا اپنا جسم دیکھو اور مجھے دیکھو میں ایک چھوٹے سے بل میں رہتا ہوں تم میرے گھر نہیں آسکتے میری اور تمہاری دوستی نہیں ہوسکتی ۔

یہ کہہ کر خرگوش جلدی سے اپنے بل میں گھس گیا ۔
اداس ہاتھی ایک درخت کے ساتھ کھڑا تھا کہ اسے جنگل کے سب جانور بھاگتے نظرآئے ۔ ہاتھی نے بھاگنے والے جانوروں سے پوچھا ․․․․․ آپ سب کہاں بھاگے جارہے ہیں ۔ جانوروں نے کہا جنگل کا بادشاہ شیرآگیا ہے ۔
تم بھی جلدی بھاگوورنہ وہ تمہیں بھی چیرپھاڑڈالے گا۔
ہاتھی نے جب شیر کو دیکھا کہ وہ ہرن پر حملہ کررہا ہے تو اس نے شیر سے کہا ․․․․․ جنگل کے بادشاہ کیوں اس معصوم جانور پر حملہ کررہے ہو ۔ شیر نے غصے سے ہاتھی کی جانب دیکھا اور بولا ․․․․․تم کون ہوتے ہو میرے کام میں مداخلت کرنے والے ۔
تمہاری اتنی جرات ، ٹھہرو میں ابھی تمہیں مزہ چکھاتا ہوں ۔
شیر یہ کہتے ہی ہرن کو چھوڑ کر دھاڑتے ہوئے ہاتھی کی طرف لپکا ۔ ہاتھی نے شیر کو اپنی سونڈ مار کر نیچے گرایا اور اپنی بھاری ٹانگ اس پر رکھ دی ۔ ہاتھی کے وزن سے تو شیر کی جان ہی نکل گئی ۔
شیر نے دل ہی دل میں سوچا ․․․․ ہاتھی مجھ سے زیادہ طاقتور ہے اس سے لڑنا جان گنوانے کے مترادف ہے ۔ وہ منمنانے کے انداز میں بولا : ہاتھی بھائی ! میں تو مذاق کررہا تھا۔ آپ تو مجھے مارہی ڈالیں گے کیا ۔ میں وعدہ کرتا ہوں اب کسی کو نہیں ستاؤں گا ۔
ہاتھی نے اپنی ٹانگ اس پر سے اٹھالی۔ وہ ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ سب جانوروں نے ہاتھی کا شکریہ ادا کیا اور کہا ․․․․․ آج سے ہم سب آپ کے دوست ہیں کیونکہ آپ مصیبت میں ہمارے کام آئے اور دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے ۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Adhoori EID

ادھوری عید

Adhoori EID

Pankhu Or Minku

پنکھو اور منکھو

Pankhu Or Minku

Aik Rupaye Ka Aik Lafz

ایک روپے کا ایک لفظ

Aik Rupaye Ka Aik Lafz

عالم کی عمر

Aalim Ki Umr

Batoon Batoon Mein

باتوں باتوں میں

Batoon Batoon Mein

Intiqam

انتقام

Intiqam

Siana Bhulakkar

سیانا بھلکّڑ

Siana Bhulakkar

Jadu Ka Aaina

جادو کا آئینہ۔۔۔۔۔تحریر:مختاراحمد

Jadu Ka Aaina

Sultan Mehmmod Ghaznawi

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻏﺰﻧﻮﯼ

Sultan Mehmmod Ghaznawi

Saudagar Ki Beti

سوداگر کی بیٹی۔۔تحریر:مختار احمد

Saudagar Ki Beti

Billi Ka Bacha

بلی کا بچہ

Billi Ka Bacha

BulBul Khush Awaz Parinda

بلبل خوش آواز پرندہ

BulBul Khush Awaz Parinda

Your Thoughts and Comments