Ehssas Hu Gya

Ehssas Hu Gya

احساس ہوگیا

اُس نے احتیاط سے گھونسلہ نکال لیا تھا، وہ اُسے اُٹھا کر گھر لے آیا اور لاکر گودام میں رکھ دیا۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ چائے پی کراُن بچوں کو کچھ کھانے کو دے گا لیکن۔۔۔۔۔

احمد عدنان طارق:
سکول سے چھٹی ہوتے ہی معاذ گھر جانے والے راستے پر دوڑ نے لگا۔ اُسکا گھر سکول سے تقریباََ ایک میل دور تھا۔ موسم بہار میں اُسے یہ فاصلہ طے کرتے ذرابھی مسئلہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ فصلوں کے بیچ سے گزرتا اور راستے میں پرندوں کے گھونسلے بھی ڈھونڈتا رہتا۔
وہ سکول سے باہر نکلا تو اُسے یاد تھا کہ اُس نے ایک جھاڑی کے پیچھے سے ایک پرندہ اُڑتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے وہاں پرندے کا گھونسلہ موجود ہو اور اُس میں شاید انڈوں سے نکلے ہوئے ننھے بچے بھی مل جائیں۔ اُس نے پودوں کی شاخیں اِدھر اُدھر کیں اور پھر پتوں میں چھپے ایک گھونسلے پر اُسکی نظر پڑگئی جس میں چار ننھے ننھے بچے چونچیں بلند کرکے شور مچا رہے تھے۔

(جاری ہے)

معاذ بولا” میں اِن کو اپنے گھر لے جاؤں گا اور اُنہیں کھانا کھلاؤں گا“ وہ خود کو خوش قسمت کہہ رہا تھا کیو نکہ نہ صرف اُسے گھونسلہ مل گیا تھا بلکہ اُس گھونسلے کو نکالنے میں معاذ کی قمیض کی آستین اور کئی جگہ سے پتلون بھی پھٹ گئی تھی لیکن اُسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
اُس نے احتیاط سے گھونسلہ نکال لیا تھا، وہ اُسے اُٹھا کر گھر لے آیا اور لاکر گودام میں رکھ دیا۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ چائے پی کراُن بچوں کو کچھ کھانے کو دے گا لیکن چائے کے بعد اُسکی خالہ گھر آگئیں۔ وہ اُسکے لئے کھلونے لائیں تھیں جن سے کھیلنے میں وہ اتنا مگن ہوا کہ وہ گھونسلے کے بچوں کو یکسر بھول گیا۔
معاذ اپنے بستر میں لیٹا میٹھی نیند سورہا تھا کہ اچانک اُسکے کانوں میں دروازہ زور سے کھلنے کی آواز آئی وہ بستر سے اُٹھ کر بیٹھ گیا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پھر کوئی اُسکے بستر کے نزدیک آیا۔ وہ ایک دیو تھا، اُسکا سر چھت سے چھور رہا تھا اور اُسکے دونوں ہاتھ معاذ کے بستر جتنے بڑے تھے۔
دیواونچی آواز میں بولا” بڑا پیار ننھا سا بچہ ہے“ میں اسے بستر سمیت ساتھ لے جاؤں گا“ پھر معاذ کو محسوس ہوگیا کہ کسی نے اُسے بستر سمیت اُٹھالیا ہے۔۔ اِس سے پہلے کہ اُسے معلوم ہوکہ کیا ہوا ہے، دیواسے لیکر فصلوں میں دوڑا جارہا تھا۔
پھر وہ دیو ایک اونچی پہاڑی پر بنے ہوئے ایک سرخ رنگ کے قلعے کے پاس رکا۔ اس سے پہلے کہ وہ قلعہ کا مرکزی دروازہ کھولے وہ ایک کمرے میں گیا جو کوئلوں سے بھراہوا تھا۔ اُس نے کمرے میں معاذ کا بستر رکھ دیا اور کہنے لگا کہ تم ساری رات اِدھر ہی رہو گے“ بیچارہ معاذ بے اختیار چیخنے لگا کہ شاید کوئی اُسکی آواز سن کر اُسے بچانے آجائے۔
تبھی اُسکو ایک طرف سے آواز سنائی دی کوئی کہہ رہا تھا کیا مسئلہ ہے تم چلا کیوں رہے ہو معاذ؟“ معاذ نے اُدھر دیکھا تو اُسے امی جان نظر آئیں وہ اپنے کمرے میں ہی تھا اور اپنے بستر میں لیٹا ہوا تھا اور وہاں کوئی دیو نہیں تھا وہ شرمندہ ہوکر بولا” امی جان میں خواب دیکھ رہا تھا“ پھر معاذ کے ذہن میں گھونسلے اور چار ننھے بچوں کا خیال آیا اُس نے اپنی امی سے پوچھا؛” امی ! کیا ننھے پرندے بھی ہمیں دیو سمجھتے ہیں؟“ امی ہنس کر بولیں” کیا مزے کا سوال ہے؟“ واقعی ننھے بچوں کیلئے تو تم دیو ہی ہوا اِسی لئے سب تمہیں سمجھاتے ہیں کہ اِن کمزور اور ننھے منے جانداروں پر رحم کھانا چاہیے۔
یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی دیو تمہیں قیدی بنا کر ظلم کرے“ معاذ نے شرمندہ ہوکر بستر کی چادر میں منہ چھپا لیا وہ بولا کاش میں وہ گھونسلہ اُٹھا کر نہ لاتا۔ پھر اگلے دن سکول جاتے ہوئے وہ گھونسلے کو ساتھ لے گیا اور اُس کی جگہ پر رکھ دیا۔ ننھے بچے بڑے اور مضبوط ہوگئے اور کچھ ہی دنوں میں اُڑ گئے ۔ معاذ بولا” میں خوش ہوں کہ تم آزاد ہو“ میں واقعی اُس دن دیو ہی بن گیا تھا جب تمہیں اُٹھا کر لے گیا تھا“

Your Thoughts and Comments